پاور سیکٹر کے واجبات لمحہ فکریہ

لاکھوں لوگ بجلی کا بل ادا نہیں کرتے، کنڈا سسٹم جڑ پکڑ چکا ہے، ملک ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے اور اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے


Editorial September 03, 2014
لاکھوں لوگ بجلی کا بل ادا نہیں کرتے، کنڈا سسٹم جڑ پکڑ چکا ہے، ملک ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے اور ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

ملک میں توانائی بحران کے شدید ہونے کا خطرہ ظاہرکیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اس کی وجہ پاورسیکٹر کے واجبات ہیں جو ایک بار پھر 534 ارب روپے سے تجاوز کرگئے۔ یہ تشویش ناک امر ہے کہ قوم گردشی قرضے کے گرداب سے نکلنے کی منتظر تھی مگر میڈیا کئی ایک شعبوں کی صورتحال کی نزاکت کی نشاندہی کرتا رہا ہے اور اس بات پر ماہرین اورپاور سیکٹر کے مسائل سے واقف کار مسلسل یاد دلاتے رہے کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت ، تقسیم اور لائن لاسز کو کنٹرول کرنے پر بھرپر توجہ نہیں دی جائے گی تو ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

تاہم اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ سابقہ حکومتوں نے توانائی بحران کے خاتمے کے لیے افسوس ناک بلکہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں بلنگ کا نظام ظالمانہ ہوگیا ہے، لاکھوں لوگ بجلی کا بل ادا نہیں کرتے، کنڈا سسٹم جڑ پکڑ چکا ہے، ملک ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے اور ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس تضاد اور خالی از حکمت اقتصادی پالیسیوں کا تسلسل کیوں جاری ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق صوبائی حکومتوں پر واجبات ایک سو چونتیس ارب روپے تک جا پہنچے ہیں، وفاقی حکومت پرگزشتہ ماہ بلنگ کی مد میں چار ارب نوکروڑ روپے واجب الادا تھے۔ اسی طرح پنجاب پر تین ارب اکتالیس کروڑ روپے،سندھ پر اٹھاون ارب تیرہ کروڑ روپے، خیبر پختونخوا پر بیس ارب انیس کروڑ روپے اور بلوچستان پر چھ ارب بارہ کروڑ روپے کے واجبات ہیں۔

جب ادائیگیاں اس درجے کی ہوں تو کیا کوئی الہ دین کا چراغ رگڑکر ان رقوم کی ادائیگی کرے گا۔ ظاہر ہے یہ رقوم توانائی بحران کی شدت میں اضافے کا سبب ہیں ۔ ارباب اختیار حکومتی اللے تللے ختم کرکے ان واجبات کی ادائیگیوں کو یقینی بنائے۔ اگر صوبائی حکومتوں کو ادائیگوں کے حوالے سے تحفظات ہیں یا اس ضمن میں بعض تکنیکی نکات اٹھائے جانے ہیں تو اس میں تاخیر نہ کی جائے۔ ملک بجلی کی قلت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ امید کی جانی چاہیے کہ جو صارفین قانونی طور پر اپنے بجلی کا بل ادا کرتے ہیں ان سے چوری کی جانے والی بجلی کا خاموش جرمانہ وصول نہ کیا جائے ۔بجلی چوری روکی جائے اور بجلی کی پیداوار میں شدید قلت کے لیے فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی مہنگی مشقوں کے بجائے متبادل توانائی کے وسائل تلاش کرنے کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے جب کہ توانائی کے جاری اہم منصوبے جلد مکمل کیے جائیں۔