اساتذہ کے مسائل کو حل کیا جائے

صوبائی حکومت کو دانشمندی کا ثبوت ہوتے ہوئے اساتذہ کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر فی الفور حل کرنا چاہیے۔۔۔


Editorial September 15, 2014
صوبائی حکومت کو دانشمندی کا ثبوت ہوتے ہوئے اساتذہ کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر فی الفور حل کرنا چاہیے۔ فوٹو: ایکسپریس

گزشتہ دنوں بلاول ہاؤس کے قریب احتجاج کرنے والے خواتین ومرد اساتذہ پر جس طرح پولیس نے تشدد کیا وہ کسی بھی طرح مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک محترم اور مقدس پیشے سے منسلک اساتذہ کا یوں سڑکوں پر خوار ہونا پڑے تو یقیناً یہ محکمہ تعلیم کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ احتجاج کرنے والے اساتذہ کا موقف ہے کہ ان کی بھرتی اگست2012میں ہوئی تھی اور اساتذہ کی کل تعداد تھی 7300 ۔ لیکن طویل عرصے سے انھیں تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں،ملازمتوں پر مستقل کرنے کا مسئلہ بھی ہنوز حل طلب ہے۔

اساتذہ کی ایکشن کمیٹی کے موقف کے مطابق حکومت سندھ نے ہمارے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے انا کا مسئلہ بنا لیا ہے جس سے مسئلہ تاحل حل نہیں ہورہا۔سینئرصوبائی وزیرتعلیم نثارکھوڑو کا موقف ہے کہ اب محکمہ تعلیم میں تمام بھرتیاں این ٹی ایس ٹیسٹ کے ذریعے ہی ہوں گی،اساتذہ تیاری کرکے ٹیسٹ دیں اور خود کو اہل ثابت کریں توانھیں ملازمت دی جائے گی ورنہ یہ موقع بھی ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔

سابق صوبائی وزیر پیر مظہرالحق نے کہاہے کہ مسلسل2 برس سے مذکورہ اساتذہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض بخوبی سرانجام دے رہے ہیں ان کے محکمہ جاتی ٹیسٹ کامیں خودگواہ ہوں، محکمہ تعلیم سندھ کے جانب سے لیے گئے ان ٹیسٹ کی منظوری وزیراعلیٰ سندھ نے دی تھی جب کہ این ٹی ایس ٹیسٹ صرف اورصرف ورلڈبینک اور یورپین یونین کے پروجیکٹ کے تحت پی ایس ٹی، جونیئر اسکول ٹیچرز اور ہائی اسکول ٹیچرزکے لیے تھے جب کہ ایس ایل ٹی، ڈرائنگ ٹیچرز، پی ٹی آئی اور نان ٹیچنگ عملے کی تنخواہیں حکومت سندھ کی ریگولر بجٹ میں منظور شدہ ایس این ایس کے تحت دینی ہیں۔

صوبائی حکومت کو دانشمندی کا ثبوت ہوتے ہوئے اساتذہ کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر فی الفور حل کرنا چاہیے۔ اگر ان بھرتیوں میں کچھ بے قاعدگیاں سامنے آتی ہیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ یہ سب کچھ ضابطے اور قانون کے مطابق ہوگا تو کسی کی بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔