وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ضروری ہے

حکمران طبقے نے اپنے طرز عمل میں تبدیلی نہ کی تو عوام کا ردعمل زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔


Editorial September 17, 2014
حکمران طبقے نے اپنے طرز عمل میں تبدیلی نہ کی تو عوام کا ردعمل زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ فوٹو؛فائل

کراچی سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی فلائٹ میں مسافروں نے سینیٹر رحمان ملک اور مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کے ساتھ جو سلوک کیا' وہ ہمارے نام نہاد وی آئی پیز کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ حکمران طبقے نے اپنے طرز عمل میں تبدیلی نہ کی تو عوام کا ردعمل زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔

اخباری خبر کے مطابق منگل کے روز پی آئی اے کی کراچی سے اسلام آباد جانیوالی پرواز پی کے 370 کی روانگی میں اڑھائی گھنٹے تاخیر ہوگئی جس پر جہاز میں سوار مسافروں نے احتجاج شروع کردیا، مسافروں نے جب عملے سے استفسارکیا تو معلوم ہوا کہ 2 ارکان پارلیمنٹ بھی اسی پروازکے مسافر ہیں لہذا دونوں کا انتظار کیا جارہا ہے، رحمان ملک جہاز میں داخل ہونے لگے تو عملے اور مسافروں نے ان سے تکرار کی' اسی دوران مسلم لیگ ن کے ایم این اے رمیش کمار بھی جہاز میں داخل ہوئے جس پرجہاز کے بعض عملے اورمسافروں نے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا اور مسافروں نے شورشرابہ شروع کردیا۔

ترجمان پی آئی اے کا دعویٰ ہے کہ طیارہ پہلے ہی تاخیر سے کراچی پہنچا تھا جب کہ اس پرواز میں مزید تاخیر اس وقت ہوئی جب دونوں ارکان تاخیر سے پہنچے، ترجمان نے کہا کہ ادارے نے جہازکو تاخیر ہونے پر شفٹ مینیجر ندیم ابڑو اور مینیجر ٹرمینل شہزاد علی کو معطل کردیا ہے ، مزید براں پی آئی اے انتظامیہ نے کہا ہے کہ درحقیقت 15 ستمبرکو پرواز نے شام 7 بجے روانہ ہونا تھا لیکن تیکنیکی وجوہات کی بنا پر اس میں ایک گھنٹہ 30 منٹ کی تاخیر ہوئی اور روانگی کا نیا وقت 8 بج کر 30 منٹ مقررکیا گیا جس کے بارے میں مسافروں کو اطلاع بھی دیدی گئی لیکن بعد میں 2 ممبران پارلیمنٹ کے دیر سے آنے کی وجہ سے مزید 20 منٹ کی تاخیر ہوگئی جن کوآف لوڈکر دیا گیا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ایوی ایشن شجاعت عظیم نے واقعہ کا نوٹس لے کرفوری طور پر انکوائری کے احکامات دے دیے ہیں،رحمان ملک نے کہا ہے کہ پرواز تکنیکی وجوہ کی بنا پر تاخیر کا شکار ہوئی، ان پر الزام درست نہیں۔پاکستان میں وی آئی پی کلچر نے سسٹم کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، یہ بڑی زیادتی کی بات ہے کہ کسی سیاسی شخصیت جو خود کو وی آئی پی کے زمرے میں شامل کرے' اس کی وجہ سے جہاز کی پرواز لیٹ ہو جائے' ہماری سیاسی قیادت خصوصاً وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کو اپنے رویوں اور طرز زندگی پر نظرثانی کرنی چاہیے کہ وہ عوام کے سامنے اپنا کیا روپ پیش کر رہے ہیں۔

معمولی معمولی باتوں پر ارکان پارلیمنٹ تحاریک استحقاق پیش کرتے رہتے ہیں لیکن انھیں سوچنا چاہیے کہ کیا وہ عوامی نمایندگی کا حق ادا کر رہے ہیں۔ سنیٹر رحمان ملک اور مسلم لیگ ن کے ایم این اے رمیش کمار کی وضاحت کے بعد یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے۔ مہذب معاشروں میں تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں ۔