الیکشن کمیشن کی اصلاحاتی تجاویز

ریٹرننگ افسران اور الیکشن اسٹاف کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مزید اضافہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے


Editorial September 22, 2014
ریٹرننگ افسران اور الیکشن اسٹاف کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مزید اضافہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے. فوٹو: فائل

اسلام آباد کے دھرنوں کا بنیادی مقصد انتخابی نظام کی اصلاح کرانا تھا تا کہ عوام کے حق رائے دہندگی کو چُرایا نہ جا سکے جیسا کہ تحریک انصاف کے بانی کا بنیادی شکوہ ہے۔ اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو مملکت خدا داد میں پچاس کی دہائی میں منعقد ہونے والے اولین انتخابات کے بعد ہی انتخابی دھاندلی کے حوالے سے ''جھرلو'' کی اصطلاح منظر عام پر آ گئی تھی۔

یہ جھرلو در اصل مداری کی وہ چھوٹی سی چَھڑی ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ خالی بکس سے کبوتر نکالتا ہے۔ انتخابی جھرلو سے ووٹ نکالے گئے تھے۔ گویا انتخابی اصلاحات کا مطالبہ روز اول سے ہی موجود ہے۔ اب الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات کے لیے 10 تجاویز اصلاحات کمیٹی کے حوالے کر دی ہیں جن میں بائیو میٹرک سسٹم اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی کی سفارش کی گئی ہے۔

واضح رہے پڑوسی ملک بھارت میں جس کی آبادی ہم سے چھ سات گنا زیادہ ہے وہاں کافی عرصہ سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ہو رہا ہے اور وہاں کا الیکشن کمیشن بھی طاقتور ہے' یہی وجہ ہے کہ وہاں انتخابی دھاندلی کا شور کبھی شور نہیں اٹھا۔ اور ایک سب سے ضروری اور بنیادی کام ہے ملک عزیز میں بسنے والے لوگوں کی اصل تعداد کتنی ہے تا کہ اس کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے۔ الیکشن کمیشن نے فوری طور پر مردم شماری اور نئی حلقہ بندیاں کرانے کے لیے بھی کہا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ مردم شماری کو جانے کتنے عشرے بیت چکے اور آبادی میں کتنے کروڑ نفوس کا اضافہ ہو مگر ہم اٹھارہ کروڑ کو ہی حتمی سمجھے بیٹھے ہیں۔ کمیشن نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کے لیے ضروری قانون سازی کرنے کی بھی سفارش کی ہے، جو ان پردیسیوں کے لیے بہت ہمدردی کی بات ہے۔ جب کہ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کی مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں کی حاصل کردہ نشستوں کے بجائے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے دی جائیں۔

ریٹرننگ افسران اور الیکشن اسٹاف کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مزید اضافہ کرنے، انتخابات سے 60 دن قبل الیکشن اسکیم جاری کرنے کی اجازت دینے اور اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے بعد 90 دن کے بجائے 120دنوں میں الیکشن کرانے کی تجاویز کا جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی تجاویز اہمیت کی حامل ہیں' حکومت کو ان تجاویز کو قبول کرنا چاہیے۔ جمہوریت کی بقا اور استحکام کے لیے الیکشن کمیشن کا مضبوط ہونا اور ووٹنگ سسٹم کا فول پروف ہونا انتہائی ضروری ہے' مردم شماری بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں پاکستان کے لیے صحیح معنوں میں ترقیاتی منصوبے بن سکیں۔