افغانستان میں سیاسی بحران کا خاتمہ

شراکت اقتدار کے نئے فارمولے کے مطابق ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی آیندہ پانچ سال کے لیے صدر ہونگے


Editorial September 22, 2014
شراکت اقتدار کے نئے فارمولے کے مطابق ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی آیندہ پانچ سال کے لیے صدر ہونگے ... فوٹو؛ رائٹرز/فائل

افغانستان میں کئی ماہ سے جاری سیاسی بحران کے خاتمے اور متحدہ قومی حکومت تشکیل دینے کے لیے صدارتی انتخاب کے دو بڑے حریف گروپوں میں شراکت اقتدار کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

شراکت اقتدار کے نئے فارمولے کے مطابق ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی آیندہ پانچ سال کے لیے صدر اور عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو افسر ہوں گے' ان کا یہ عہدہ وزیراعظم کے برابر ہو گا۔ اشرف غنی 29 ستمبر کو صدارتی عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ افغانستان میں 14 جون کو عام انتخابات ہوئے تھے مگر عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح ملک میں نیا سیاسی بحران پیدا ہو گیا اور نئی حکومت تشکیل نہ پا سکی۔

اب افغان الیکشن کمیشن کے سربراہ احمد یوسف نورستانی نے 14 جون کو ہونے والے صدارتی نتائج کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے اشرف غنی کو کامیاب قرار دیدیا' انھوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے کے ووٹوں کی تصدیق کے نتائج کے مطابق اشرف غنی نے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور اس طرح صدارتی الیکشن کا عمل مکمل ہو گیا۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ نے پولنگ میں دھاندلیوں کا بھی اعتراف کیالیکن انھوں نے حاصل کردہ ووٹوں کے اعدادوشمار نہیں بتائے' افغان ذرایع کے مطابق اشرف غنی نے انتخابات میں 55.27 فیصد جب کہ ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے 44.73 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح صدارتی انتخابات کے دوران ہونے والی دھاندلی کے الزامات کا ڈراپ سین ہو گیا اور جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں پہلی بار پرامن طور پر جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کا مرحلہ طے پا گیا۔

افغانستان کے حکومتی نظام میں چیف ایگزیکٹو کا عہدہ اس سے پہلے موجود نہیں تھا یہ پہلی بار تخلیق کیا گیا ہے' افغان پارلیمنٹ جلد ہی اس کی توثیق کرے گی۔ روس کے داخلے کے بعد افغانستان خانہ جنگی کا مسلسل شکار چلا آ رہا ہے۔ اس کے بعد اقتدار کی کرسی پر جو بھی آیا وہ اپنے مخالفوں سے جنگ لڑ اور خون بہا کر ہی آیا۔ افغان قوم کے بارے میں مشہور رہا ہے کہ یہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں اور کبھی پرامن طور پر نہیں رہ سکتے۔

مگر اب تاریخ افغان قوم کا نیا روپ سامنے لائی ہے، پہلی بار دھاندلیوں کے الزامات اور تمام تر مخالفت کے باوجود اقتدار کی منتقلی کا مرحلہ پر امن طور پر طے پا گیا ہے جو ایک جانب نہ صرف افغان قوم کی سوچ میں واضح تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مستقبل کے ایک پرامن،روشن اور خوشحال افغانستان کی نوید بھی دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ میں دھاندلیوں کے اعتراف کے باوجود افغانستان کی سیاسی قیادت نے آپس میں لڑ جھگڑ اور ملک کو کسی نئے خطرے سے دو چار کرنے کے بجائے بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بحران سے نکالنے کا فیصلہ کیا جو خوش آیند ہے۔ اشرف غنی سابق افغان وزیر خزانہ ہیں جو امریکا نواز اور عالمی مالیاتی اداروں کے قریبی آدمی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ کرزئی حکومت میں وزیر خزانہ بھی رہے، یہ پشتون طبقے کی حمایت کرتے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ نمایندگی تاجکوں اور ازبکوں کی کرتے ہیں اس کے علاوہ بامیان کے ہزارہ منگول قبائل بھی ان کی حمایت کرتے ہیں۔ انتظامیہ اور افغان نیشنل آرمی میں مضبوط اکثریت تاجکوں اور ازبکوں کی ہے۔ اس طرح عبداللہ عبداللہ کے چیف ایگزیکٹو بننے سے افغان سیاست اور معاشرت میں تاجکوں اور ازبکوں کا غلبہ بڑھے گا۔ عبداللہ عبداللہ کے افغانستان کے سابق وزیر دفاع قاسم فہیم سے اور شمالی اتحاد کے اہم کمانڈر احمد شاہ مسعود سے بھی دوستانہ تعلقات رہے۔

یہ کہا جاتا ہے کہ روس کے خلاف لڑنے کے باوجود شمالی اتحاد کے امریکا سے قریبی تعلقات قائم نہیں ہو سکے۔ بعد ازاں بدلتے ہوئے حالات کے تحت شمالی اتحاد کے روس سے قریبی تعلقات قائم ہو گئے ۔ عبداللہ عبداللہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انڈیا کے زیادہ قریب ہیں اور پاکستان کے بارے میں ان کا رویہ سخت چلا آ رہا ہے' طالبان کے حوالے سے بھی وہ سخت خیالات کے حامل ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر نے افغانستان میں کئی ماہ سے جاری سیاسی بحران کے خاتمے اور شراکت اقتدار کا معاہدہ پر امن طور پر طے پانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایک بیان میں پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام اور حکومت اس معاہدے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، یہ انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغان صدارتی امیدواروں کے درمیان یہ معاہدہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی مسلسل ثالثی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، انھوں نے معاہدہ ہونے کے فوراً بعد اس کا خیر مقدم کیا۔ امریکا کا افغان حکومت کے ساتھ دو طرفہ سیکیورٹی معاہدہ گزشتہ سال سے التوا میں چلا آ رہا ہے اسے امید ہے کہ اب نئی افغان حکومت تشکیل پانے کے بعد سیکیورٹی معاہدے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر جنرل جان کیوبس نے معاہدے کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے امریکا سے جلد از جلد سیکیورٹی معاہدے کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ پاکستان بھی عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے باعث گزشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی بحران کا شکار چلا آ رہا ہے۔ افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے جب تباہ حال اور ترقی کے لحاظ سے پاکستان سے کئی گنا پسماندہ ملک دھاندلیوں کے الزامات کو نظر انداز کرتے ہوئے قوم کو سیاسی بحران سے نکال سکتا ہے تو پاکستان کی سیاسی قیادت ایسا کیوں نہیں کر سکتی۔ پاکستان کی سیاسی قیادت پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے جاری سیاسی رسہ کشی کا جلد از جلد ڈراپ سین کرے۔ یہ بحران جتنا طول پکڑتا جائے گا ملکی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں اتنی ہی رکاوٹیں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔