سوئس حکام کو خط…حکومت کو آخری مہلت

حکومت اس معاملے کو طے کرنے میں خاصی سنجیدہ نظر آتی ہے


Editorial September 28, 2012
وزیر قانون نے عدالت کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ مسودے کو عدالت کے احکامات کے مطابق بنایا جائے گا۔فوٹو: فائل

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے بدھ کو سوئس حکام کو لکھے جانے والے حکومتی خط کے نئے مسودے پر اعتراض کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ 5 اکتوبر کو خط کے حتمی مسودے کو عدالت کے فیصلے کی روشنی میں نہ لکھا گیا تو عدالت توہین عدالت کی کارروائی آگے بڑھانے پر مجبور ہو گی۔

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے آیندہ سماعت پر این آر او فیصلے کے مطابق خط کا مسودہ پیش کر نے کی یقین دہانی کرائی۔ واقعات کے مطابق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے سوئس مقدمات سے متعلق جنیوا کے اٹارنی جنرل کے لیے تیار کردہ خط کا نیا مسودہ سپریم کورٹ میں پیش کیا تو عدالت عظمیٰ نے اس مسودے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ خط این آر او کیس کے فیصلے کے پیرا 178 کے مطابق نہیں ہے۔

وزیر قانون نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کے حل کے لیے انھیں چیمبر میں سن لیا جائے کیونکہ اس میں بعض حساس معاملات ہیں جن پر کھلی عدالت میں بات کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ عدالت نے پہلے تو ان کی یہ استدعا مسترد کر دی لیکن فاضل ججزنے چیمبر میں ان کیمرہ سماعت کی استدعا پر غور کر نے کے بعد وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور ایڈووکیٹ وسیم سجاد کو چیمبر میں طلب کر لیا جہاں پر ان دونوں حکومتی نمایندوں نے عدالت کو نئے مسودے پر بریفنگ دی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق عدالت نے کہا کہ مسودے میں ابھی کچھ کمی ہے جسے دور کر نے کی ضرورت ہے۔ وزیر قانون نے عدالت کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ مسودے کو عدالت کے احکامات کے مطابق بنایا جائے گا۔

عدالت نے کیس کی سماعت کو 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ اس بات کی توقع کر تی ہے کہ اب اس معاملے میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ تاخیر کی صورت میں عدالت توہین عدالت کی کارروائی کو آگے بڑھانے پر مجبور ہو گی۔ ادھر وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن کی روشنی میں خط کا معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو جائے گا۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے حوالے سے بھی یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے مطابق اس معاملے کو حل کر لیا جائے۔

این آر اور عملدرآمد کیس کے حوالے سے کئی طرح کی پیش رفتیں دیکھنے میں آ تی رہی ہیں۔ بحران اس نہج تک پہنچا کہ ایک وزیر اعظم اسی کیس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف جب وزیراعظم بنے تو ان کے سامنے بھی یہی کیس تھا۔ حکومت سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر مہلت طلب کرتی رہی اور عدالت عظمیٰ یہ استدعا منظور کرتی رہی۔

یوں ٹکرائو ٹلتا رہا ہے کیونکہ معاملات آئین اور قانون کے دائرے میں ہی رہے۔ اس صورتحال کو مثبت قرار دیا جاتا رہا ہے۔ فہمیدہ حلقوں کی یہ تمنا رہی کہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے طے ہو جانا چاہیے تاکہ سسٹم چلتا رہے۔ پھر وہ وقت بھی آ گیا کہ آخر کار حکومت سوئس حکام کو خط لکھنے پر تیار ہو گئی۔ اس طرح این آر او سے جنم لینے والا بحران ختم ہونے کے واضح امکانات پیدا ہو گئے۔

اب حکومت نے عدالت عظمیٰ میں اس خط کا مسودہ بھی پیش کر دیا ہے، جو سوئس حکام کو بھیجا جانا ہے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ گو اس خط کے مسودے پر عدالت عظمیٰ نے اعتراض کیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔کیونکہ یہ معاملہ خاصا نازک اور پیچیدہ ہے اس لیے اسے آئین اور قانون کے مطابق ہی طے کر کے کسی مقصد تک پہنچا جا سکتا ہے۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ حکومت اس معاملے کو طے کرنے میں خاصی سنجیدہ نظر آتی ہے، خط کا معاملہ اگرچہ مکمل طور پر طے تو نہیں ہوا لیکن حکومت کو مزید سوچنے اور خط کے مسودے کو عدالت کی منشا کے مطابق تیار کرنے کے لیے خاصا وقت مل گیا ہے۔ اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا اقدامات یا کوششیں کرتی ہے۔

یہ ایشو' کئی برسوں سے حکومت اور عدلیہ کے مابین اختلافات کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں کہ یہ ایک آئینی اور قانونی مسئلہ ہے جس پر آئین اور قانون کی روح کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیے۔

تاہم یہ خوش کن اشارے امید افزا ہیں کہ حکومت اب خط کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پوری ذمے داری سے آگے بڑھ رہی ہے، بعض حلقے اب بھی ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ اگلی پیشی پر کوئی غیر متوقع صورتحال پیش آسکتی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ شاید اس طرح حکومت وقت لے رہی ہے اور بحران ابھی تک ٹلا نہیں ہے تاہم حالات و واقعات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ حکومت اور عدلیہ دونوں اس کیس کو ہمیشہ کے لیے طے کرنا چاہتے ہیں۔ مناسب یہی ہے کہ حکومت اگلی پیشی پر عدالت کے روبرو خط کا جو مسودہ پیش کرے، اس میں عدالت عظمی کی تشفی کا پورا سامان ہونا چاہیے تا کہ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کر لیا جائے۔

اب اس مہلت سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے ٹکرائو، کھینچا تانی اور ضد کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک وزیر اعظم نااہل ہو کر گھر بیٹھ گیا ہے جب کہ دوسرے وزیر اعظم پر بھی یہی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اب عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بحران سے نکلا جائے تا کہ حکومت اور عدلیہ دونوں اس کشمکش سے آزاد ہو سکیں۔

حکومت مسلسل یہی کہہ رہی ہے کہ وہ این آر او پر عدالتی فیصلے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے گی' اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ایسا مسودہ عدالت عظمیٰ میں پیش کرے جس پر وہ ناراض نہ ہوں۔ جہاں تک عدلیہ کا تعلق ہے تو اس کی جانب سے یہ اشارہ ریمارکس کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ عدلیہ بھی اس سلسلے میں حکومت کی مدد کرے گی۔ اس خوشگوار فضا سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور این آر او عملدرآمد کیس کا معاملہ ہمیشہ کے لیے آئین اور قانون کے مطابق طے ہو جانا چاہیے۔