سعودی مفتی اعظم کا خطبہ حج

خطبہ حج میں مفتی اعظم نے مسلمان حکمرانوں کو نصیحت کی کہ وہ دین کی سربلندی کے لیے کام کریں اور تقویٰ اختیار کریں


Editorial October 05, 2014
خطبہ حج میں مفتی اعظم نے مسلمان حکمرانوں کو نصیحت کی کہ وہ دین کی سربلندی کے لیے کام کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔ فوٹو: فائل

سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے جمعہ کو میدان عرفات میں مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیتے ہوئے عالم اسلام کے حکمرانوں کو متنبہ کیا ہے کہ اﷲ سے ڈریں اور اپنے عوام کو مشکلات سے نکالیں، یہ نہ بھولیں کہ وہ اﷲ کے سامنے جوابدہ ہیں، کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی جھگڑے اور فساد میں پڑے، داعش خوارج اور انسانیت کے دشمن ہیں، کسی بھی مسلمان کو ناحق قتل کرنا اسلام میں حرام ہے، جو کسی بے گناہ کو قتل کریں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں، کسی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

مسلمان اپنے مال میں غریبوں اور مستحقین کا حق نہ بھولیں، مسلمان ملکوں کا میڈیا حق کا علم بلند کرے، بدقسمتی سے آج ہم اپنی مشکلات کا حل اپنے دشمنوں میں تلاش کرتے ہیں، امت مسلمہ بہترین داعی ہے اسی نے انسانوں کو راہ راست پر لانا ہے، اسلام دین حق اور دین کامل ہے جو قیامت تک رہے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ عالم اسلام اپنی فوجی اور سیاسی قوت کو ہر طرح سے مجتمع کر کے رکھے۔ مسلمان حکمران امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے مل کر کام کریں۔

مسلمان حکمرانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دین کی سربلندی کے لیے کام کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔ عدل، احسان اور انصاف قائم کر کے ہی عالم اسلام کو مصائب سے نکالا جا سکتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جب ہر طرف سازشیں ہو رہی ہیں۔ مسلم دنیا میں چلنے والی بعض تحریکیں انسانیت کی دشمن ہیں۔ جو طبقہ فساد پھیلا رہا ہے وہ خوارج ہے۔ اﷲ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ اسلام میں کسی کو قتل کرنا سب سے بڑا جرم ہے۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

مفتی اعظم ہر سال عالم اسلام کو اس کی کمزوریوں سے آگاہ اور انھیں انتباہ کرتے ہیں کہ اگر انھوں نے اپنے معاملات درست نہ کیے تو وہ اسی طرح انتشار' افراتفری اور پریشانی کا شکار رہیں گے۔ لہٰذا عالم اسلام اس بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے صراط مستقیم پر چلے۔ مگر افسوس ہے کہ عالم اسلام بہتری کی جانب جانے کے بجائے ہر سال گزشتہ سال کی نسبت مزید پریشانیوں اور افراتفری کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس میں فی الوقت کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں پڑ رہے اور نہ عالم اسلام اس سے نکلنے کی کوئی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں باہمی اختلافات اور فرقہ واریت کے عناصر کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

عراق اور شام کے معاملات سنبھلتے دکھائی نہیں دے رہے بلکہ اب وہاں داعش کے نام سے ابھرنے والا گروہ نہ صرف اس خطے میں مزید خون ریزی کا باعث بن رہا ہے بلکہ امریکا اور نیٹو قوتوں نے عراق کو تباہ کرنے کے لیے پھر سے حملے شروع کر دیے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ امریکی اور اس کی اتحادی استعماری قوتوں نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ انھوں نے عراق اور شام میں کبھی امن قائم نہیں ہونے دینا اور جب کبھی عراق میں استحکام کے آثار نمایاں ہونے بھی لگیں تو وہ فوراً کسی نہ کسی سازش کے تحت اس پر پھر سے حملے کر کے اسے تباہ کر دیں گے۔ اسی طرح الجزائر میں بوکو حرام نامی تنظیم نے وہاں نت نئے مسائل پیدا کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے گروہ ایک عرصے سے تخریب کاری اور بم دھماکوں میں ملوث چلے آ رہے ہیں۔ عالم اسلام کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو جو منظرنامہ ابھرتا ہے وہ بہت بھیانک اور تشویشناک ہے۔

کچھ انتہا پسند گروہ مذہب کی آڑ لے کر سارے نظام کو تباہ کرنے اور ترقی کی ہر علامت کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ غیرملکی سازشیں ایک جانب ہیں لیکن مسلمانوں کے اندر سے ابھرنے والے یہ شدت پسند گروہ عالم اسلام کے عدم استحکام اور تباہی کے بھی ذمے دار ہیں۔ غیر ملکی سازش اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اسے مقامی تعاون حاصل ہو۔ بدقسمتی سے یہ شدت پسند گروہ غیرملکی ایجنڈے ہی کو پایۂ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں جس کا مقصد عالم اسلام کو کمزور کرنا ہے۔

سعودی عرب کے مفتی اعظم نے اپنے خطبہ حج میں مسلم ممالک کے حکمرانوں کو خصوصی طور پر مخاطب کیا ہے کہ وہ اپنی راہ عمل درست کریں۔ یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران اور طبقہ اشرافیہ اپنے مفادات کے اسیر ہو چکے ہیں۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں نے اپنے عوام پر کہیں جاگیرداری نظام مسلط کر رکھا ہے اور کہیں قبائلی نظام نافذ کر دیا ہے۔ اگر کسی مسلم ملک کے پاس وسائل ہیں تو اسے اشرافیہ نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کی ایجنٹی بھی یہی طبقہ کر رہا ہے۔ حکمرانوں کی ان ہی پالیسیوں کی وجہ سے مسلم دنیا میں غربت اور جہالت کا دوردورہ ہے۔ مسلم ممالک میں جنم لینے والے دہشت گرد اور شدت پسند گروہ بھی اسی استحصال کی پیداوار ہیں۔ اسلام دشمن قوتوں کو مواقع ہمارے اپنے تضادات نے فراہم کیے ہیں۔ آج مسلم دنیا کے اہم ترین ممالک انتشار اور بدامنی کا شکار ہیں۔ عراق' شام' لیبیا' یمن' صومالیہ' مالی اور افغانستان میں روزانہ قتل و غارت ہو رہی ہے۔ اس میں ان ممالک کے بااختیار افراد کی پالیسیوں کا بھی حصہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حالات کی نزاکت کا احساس کیا جائے اور مسلم حکمران اپنے طور طریقے بدلیں اور سعودی عرب کے مفتی اعظم نے جو تنبیہ کی ہے اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ خود احتسابی کا عمل شروع ہو جائے تو عالم اسلام بحران سے نکل جائے گا۔