بلدیاتی انتخابات ناگزیر ہوگئے

صدرنے بلدیاتی انتخابات کےجلد انعقاد کے لیےالیکٹورل رولزترمیمی آرڈیننس اور حلقہ بندیاں ترمیمی آرڈیننس 2014 جاری کردیے


Editorial October 16, 2014
ترمیمی آرڈیننسز کے تحت بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمیشن کو سونپ دیا گیا،فوٹو:فائل

HYDERABAD: صدر مملکت ممنون حسین نے بلدیاتی انتخابات کے جلد از جلد انعقاد کے لیے الیکٹورل رولز ترمیمی آرڈیننس اور حلقہ بندیاں ترمیمی آرڈیننس 2014 جاری کر دیے ۔ ترمیمی آرڈیننسز کے تحت بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمیشن کو سونپ دیا گیا جب کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری کا کام بھی وہی کرے گا،آرڈیننسز کے تحت حلقہ بندیوں سے متعلق کسی بھی اعتراض کے فیصلہ کا فورم بھی الیکشن کمیشن ہوگا۔ صدارتی آرڈیننسز میں الیکشن کمیشن کو بلدیاتی اداروں کی نشستیں مقرر کرنے کا بھی اختیار دے دیا گیا ہے جب کہ اسے حلقہ بندیوں کا کام جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے ۔

صدر مملکت نے جلد بلدیاتی الیکشن کرانے کے لیے آرڈیننسز جاری کرکے درحقیقت پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا حکومت کو آئینی اعتبار سے بلا تاخیر بلدیاتی انتخابات کے اعلان و انتظام کا پابند کردیا ہے، بلوچستان حکومت نے بدترین اور پرآشوب دورانیہ میں بھی اس ذمے داری کو خوش اسلوبی سے نبھا کر جمہوریت کی لاج رکھ لی ۔ اب باقی تین صوبائی حکومتوں کے لیے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے مسئلے پر حیلہ جوئی کا دروازہ بند ہوگیا ہے ۔ ادھر سپریم کورٹ نے مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دیدی جب کہ پنجاب اور سندھ کو بلدیاتی حلقہ بندیوں کے سلسلے میں قانون سازی کے لیے بل2 روز میں اسمبلیوں میں پیش کرنے کا حکم دیدیا، جب کہ بلدیاتی الیکشن کیس میں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے جواب عدالت نے مسترد کردیے ۔

اگرچہ عدالت عظمیٰ نے کافی تحمل سے کام لیا مگر بلدیاتی انتخابات کے نام سے خدا معلوم صوبائی حکومتوں پر کیوں لرزہ طاری ہوتا ہے کہ وہ کسی نا کسی بہانے سے کوشش کرتی رہی ہیں کہ یہ بلا سر سے ٹل جائے، حالانکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی شرط ہے اور جمہوریت کی آبیاری کا ذریعہ بھی ۔ تاہم حیرت ہے کہ آمریت میں تو بلدیاتی الیکشن باآسانی ہوجاتے ہیں مگر یہ سعادت جمہوری حکومتیں حاصل کرنے میں بوجوہ پیچھے رہ جاتی ہیں مگر اب بلی کے گلے میں عدلیہ نے گھنٹی باندھ دی ہے ، کوئی اور راستہ نہیں ۔ عدالتی اقدامات اور صدارتی آرڈیننس کے اجرا سے اب بلدیاتی الیکشن کے امکانات روشن لگتے ہیں ۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں فل بنچ نے خبردار کیا کہ اگر 28 اکتوبر تک تقرر نہ ہوا تو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر فرائض کی انجام دہی سے دستبردار ہو جائیں گے۔

یہ واضح انتباہ ہے، ارباب اختیار عدلیہ ،عوامی امنگوں اور ملکی سماجی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جمہوری اسپرٹ کا مظاہرہ کریں، بلدیاتی الیکشن سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں بہت بڑی ذمے داری سے عہدہ برآہوجائیں گی ، یہ ایک کریڈٹ ہوگا ، اور اس الزام سے گلو خلاصی بھی کہ جمہوریت کو بلدیاتی نظام سے کوئی چڑ ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ رواں سال فروری میں حکومت کو تقرری کا حکم دیا گیا تھا لیکن اب تک عمل نہیں ہوا، ایک جج مسلسل ایک سال سے بطور قائم مقام اضافی خدمات سر انجام دے رہے ہیں جس سے عدالتی کام متاثر ہو رہا ہے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا اگر مقررہ میعاد کے اندر تقرری نہ ہوئی تو وہ اپنا انتظامی اختیار استعمال کریں گے اور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر مزید کام نہیں کریں گے ۔ اگلے روز بلدیاتی الیکشن کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر کی عدم تقرری کا معاملہ اٹھایا اور وضاحت کے لیے فوری طور پر اٹارنی جنرل کو طلب بھی کیا ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ30سے 35دن میں تقرر ہوجائے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سال سے عہدہ خالی پڑا ہے، ایک موقع اور دے رہے ہیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ نے بلدیاتی الیکشن کرانے کے متعلق عملدرآمد کیس میں پنجاب اور سندھ کو بلدیاتی حلقہ بندیوں کے سلسلے میں قانون سازی کے لیے بل2 روز میں اسمبلیوں میں پیش کرنے کا حکم دیدیا جب کہ خیبر پختونخوا سے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول طلب کرلیا اور قرار دیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہوا تو متعلقہ وزیراعلیٰ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکے طلب کیا جائے گا ۔ ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے سیاسی حالات کی وجہ سے بھی تاخیر کے عذر پر چیف جسٹس نے کہا اصل میں کوئی حکومت کام کرنے کے لیے تیار نہیں، یہاں تک کہ ضروری قانون سازی بھی نہیں ہوئی ۔ دریں اثنا تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت ایسا بلدیاتی نظام لانا چاہتی ہے کہ کوئی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا ، ہمارا بلدیاتی نظام سب سے اچھا ہوگا ۔

اس ضمن میں سندھ اور پنجاب کے وزرائے اعلی کی طرف سے بھی جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کے خوش آیند اعلانات کی توقع رکھی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ سو سنار کی ایک لوہار کی کے مصداق اب صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے اقدامات کو حتمی شکل دینا ہی پڑے گا ، حد بندیوں کے بعد کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوسکتا اور نہ ہی تکنیکی اور فروعی معاملات کے باعث بلدیاتی الیکشن میں رخنہ ڈالنا کوئی مفید عمل ہے ، اس سے جگ ہنسائی ہوگی ، جمہوریت سے تجدید کے دعوے جھوٹے ثابت ہونگے اور عوام کے بنیادی اور روزمرہ مسائل کے حل کی آخری امید بھی خاک بسر ہوجائے گی ۔

جس کا کہ پوری قوم کو حالیہ دور میں سخت تجربہ ہوچکا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ سیاست دان اور جمہوری پارٹیز بلدیاتی الیکشن کو اصولوں سے وابستہ کرکے تاریخ کے الزام سے بچیں ۔روس کے سابق مرد آہن خروشیف نے کہا تھا کہ ''دنیا بھر کے سیاستدان ایک جیسے ہیں، وہ اس جگہ بھی پل بنانے کا وعدہ کرتے ہیں جہاں کوئی دریا نہیں بہتا۔'' بلدیاتی انتخابات پر عدالتی رولنگ اور احکامات کی تقدیس خود جمہوریت کی بقا سے مشروط ہے ۔اس کا ادراک وقت کا تقاضا ہے ۔