بھارت کی شرانگیزی جاری

ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے کے فوراً بعد ہی بھارتی فورسز نے سیالکوٹ پر ایک بار پھر فائرنگ شروع کردی ۔


Editorial October 16, 2014
کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی شرانگیزیاں جاری ہیں ۔ منگل کو پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا، فوٹو: فائل

SUKKUR: کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی شرانگیزیاں جاری ہیں ۔ منگل کو پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا جس میں پاکستان کے ڈی جی ایم او نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ کا معاملہ اٹھایا اور اس پر پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا ۔ لیکن ''ڈھاک کے وہی تین پات'' بھارت یوں تو عالمی سطح پر اپنا چہرہ امن کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن پاکستان کے معاملے میں اپنی شرانگیزی ظاہر کرنے سے نہیں چوکتا۔ ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے کے فوراً بعد ہی بھارتی فورسز نے سیالکوٹ پر ایک بار پھر فائرنگ شروع کردی ۔

دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اندر چھپا انتہا پسند بھی کھل کر سامنے آگیا ہے اور مودی نے مہاراشٹر میں انتخابی ریلی کے دوران براہ راست بھارتی افواج کو مخاطب کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی کہ پاکستان کو بھاری نقصان پہنچایا جائے، پاکستان پر گولے برساؤ تاکہ وہ چلا اٹھے ۔ بھارت کی دوغلی پالیسی تو روز روشن کی طرح عیاں ہے، جہاں ایک جانب بھارتی وزیراعظم عوامی جلسوں میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف عمل ہیں وہیں عالمی میڈیا کے سامنے اپنا ''معصومانہ'' چہرہ پیش کرتے ہوئے بھارتی وزیرخارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے ۔

بھارت کا یہ دوغلا طرز عمل اب سب کے سامنے ہے، بغل میں چھری منہ میں رام رام کی پالیسی اپنائے بھارت اب اقوام عالم کو مزید دھوکا نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی واضح پیغام دیا ہے کہ بھارتی جارحیت کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا جائے گا اور کنٹرول لائن پر بھارتی افواج کو موثر جواب دیا جائے گا ۔ پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری سمجھ لینا بھارت کی بہت بڑی بھول ہے ۔ بہادر اور غیور قوم سے ٹکرانے کا نتیجہ بھارت پہلے بھی بھگت چکا ہے ، مناسب ہوگا کہ خطے کے امن و امان کے لیے بھارت ہوش کے ناخن لے اور اپنی شرانگیز کارروائیوں سے باز رہے ۔