خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس کی وجہ افغانستان ہے کیونکہ وہاں دہشت گردوں کو پناہ مل رہی ہے۔


Editorial October 30, 2014
افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے کئی بار پاکستان کے قبائلی علاقوں میں وارداتیں کی ہیں، فوٹو فائل

خیبرایجنسی میں جیٹ طیاروں کی بمباری اور جھڑپ میں چالیس سے زاید شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ آئی ایس پی آر نے آٹھ سیکیورٹی اہلکاروں کے جام شہادت نوش کرنے کی خبر بھی دی ہے۔ اخبارات کے مطابق خیبر ایجنسی کے علاقے سپن قمر میں ایک بڑے کلیئرنس آپریشن کے دوران اکیس دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی کر دیے گئے ۔ اس کارروائی کے دوران شدید لڑائی اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں آٹھ سیکیورٹی اہلکار بھی جام شہادت نوش کر گئے۔

پولیٹیکل حکام کے مطابق مزید نفری نے پہنچ کر بھاری توپ خانے اور مارٹر گولوں کی شیلنگ سے شدت پسندوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس معرکے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شدت پسندوں کی تعداد میں اس قدر کمی نہیں ہو سکی کہ ان پر مکمل طور پر قابو پایا جا سکے یا پھر ممکن ہے کہ ان کی سرحد پار سے دراندازی بھی ہوتی ہو۔ ادھرڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب غضب کے اہداف حقیقی معنوں میں حاصل کرنے کے لیے افغان حکومت کا تعاون ناگزیر ہے جو ہمیں تاحال نہیں ملا۔ وہ تعاون نہیں کر رہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے' اس کی وجہ افغانستان ہے کیونکہ وہاں دہشت گردوں کو پناہ مل رہی ہے' تحریک طالبان کے سربراہ فضل اللہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہے۔

افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے کئی بار پاکستان کے قبائلی علاقوں میں وارداتیں کی ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس حوالے سے افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بات کرنی چاہیے اور انھیں پاکستان کو تحفظات سے آگاہ کرنا چاہیے۔ پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے افغانستان کی حکومت کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ حامد کرزئی کے دور میں پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان جانے والے جنگجوؤں کو پناہ دی جاتی رہی ہے اور یہ پناہ گاہیں اب بھی قائم ہیں۔ افغانستان کی نئی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے اور وہاں موجود جنگجوؤں کو اپنی سرزمین سے باہر نکالے۔