دہشت گردیامریکا اور پاکستان

بھارت کی موجودہ انتہا پسند حکومت بھی ایک منصوبہ بندی کےتحت پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے امریکا کواستعمال کر رہی ہے۔


Editorial November 06, 2014
عالمی برادری میں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین عالمی دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ فوٹو فائل

امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے اپنی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان اب بھی بھارت اور افغانستان کے خلاف شدت پسند تنظیموں کو استعمال کر رہا ہے، یہ بات پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہے۔ پینٹاگون کی طرف سے امریکی کانگریس کے لیے ہر چھ ماہ بعد جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں الزام تراشی کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان پراکسی فورسز کا استعمال افغانستان میں اپنے گھٹتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے اور بھارت کی اعلیٰ فوجی طاقت کے خلاف حکمت عملی کے طور پر کر رہا ہے، پاکستانی سرحد کے اندر چھپے طالبان اب بھی افغانستان میں حملے کر رہے ہیں' پاکستان افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے لیے مشکلیں پیدا کر رہا ہے۔

پاکستان نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ ایسے وقت میں جب حکومت پاکستان نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جامع آپریشن شروع کیا ہے امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ایسے الزامات پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

انھوں نے امریکی سفیر سے کہا کہ امریکا سمیت تمام عالمی برادری نے فوجی آپریشن ضرب عضب کا خیرمقدم کیا ہے اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا کامیابی سے صفایا کیا گیا ہے یہ آپریشن تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتخصیص کیا جا رہا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ ان اہم معاملات کو درست تناظر میں دیکھا جائے۔

پینٹا گون کی طرف سے پاکستان کے خلاف الزامات پر مبنی یہ رپورٹ خطے میں امریکی مفادات کی واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکا گزشتہ کئی سالوں سے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ نریندر مودی کے آنے کے بعد ان کوششوں میں خاصی تیزی آتی معلوم ہوتی ہے۔ بھارت کی موجودہ انتہا پسند حکومت بھی ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے امریکا کو استعمال کر رہی ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں مگر امریکا کا رویہ پاکستان کی جانب ہمیشہ دوغلا اور منافقت پر مبنی رہا ہے۔ ایک جانب وہ پاکستان کی قربانیاں کی توصیف بھی کرتا ہے تو دوسری جانب دہشت گردوں کی پشت پناہی کے الزامات لگانے سے بھی باز نہیں آتا۔ پینٹا گون کی طرف سے چھ ماہ قبل جاری رپورٹ میں بھی پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے گئے تھے لیکن موجودہ رپورٹ میں پہلی بار کہا گیا ہے کہ پاکستان ان شدت پسندوں کو ہندوستان کی فوج کے خلاف حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

حیرت انگیز امر ہے کہ پاکستان جو دہشت گردی کے عالمی جنگ میں امریکا کا اتحادی ہے اس پر تو الزامات کی بوچھاڑ کی گئی ہے مگر بھارت کی مدح سرائی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام سے خطے میں استحکام پیدا ہو گا اور اس کے لیے بھارت افغانستان کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورت حال سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارت افغانستان اور امریکا کا ٹرائیکا پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کا واضح اظہار پینٹاگون کی رپورٹ کے علاوہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کی اس ہرزہ سرائی سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ'' پڑوسی ملک نہ صرف بھارت کے خلاف دہشت گردوں کا استعمال کر رہا ہے بلکہ عالمی دہشت گردی میں بھی اس کے ملوث ہونے کا ثبوت ملتا ہے' عالمی برادری میں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین عالمی دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے۔''

گزشتہ دنوں بھارتی فوج نے سرحدی امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی علاقوں پر فائرنگ اور گولہ باری کی مگر امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ میں اس بھارتی جارحیت کا ذکر تک نہیں کیا گیا بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک سازش کے تحت یہ رپورٹ بھارت کو خوش کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں نریندر مودی کی تاج پوشی کے وقت افغانستان کے شہر ہرات میں بھارتی قونصلیٹ پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے اس کی کڑی پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے ملائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ نریندر مودی ہندو قوم پرست تنظیموں کے قریب مانے جاتے ہیں اور ممکن ہے اسی وجہ سے ان کی تاجپوشی کے وقت یہ حملہ ہوا ۔

رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان امریکا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری ہے تحریک طالبان پاکستان اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف پاکستانی فوج کو کامیابیاں ملی ہیں مگر دوسری جانب پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش بھی کی گئی ہے۔ عالمی سطح پر ملکوں کے درمیان تعلقات کا کھیل بڑا بے رحم اور مفاد پرستی پر مبنی ہوتا ہے۔ امریکا پہلے پاکستان کی تعریفیں کرتا اور امداد بہم پہنچاتا رہا مگر اب اس کے مفادات کا رخ بھارت کی طرف مڑ رہا ہے تو اس نے پاکستان پر الزام تراشی اور بھارت کی مدح سرائی شروع کر دی ہے۔

پاکستانی حکومت کو بھی ان بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی بدلنا ہو گی۔ خدشہ ہے کہ آیندہ رونما ہونے والا دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ پاکستان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے لہٰذا پاکستان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔