امریکا میں ری پبلکن پارٹی کی جیت

حکمران ڈیموکریٹک پارٹی8برس بعد سینیٹ کی حکمرانی سےمحروم ہوگئی،یہاں ری پبلکنز نے 36 میں سے22 نشستوں پرکامیابی حاصل کی۔


Editorial November 06, 2014
امریکا کے مڈٹرم الیکشن کے نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آیندہ صدارتی الیکشن میں حکمران ڈیمو کریٹک پارٹی کا صدر منتخب ہونے کا امکان کم ہے، فوٹو فائل

امریکا کی ری پبلکن پارٹی نے، جسے عرف عام میں گرینڈ اولڈ پارٹی یا جی او پی بھی کہا جاتا ہے، امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں 8 سال بعد سینیٹ (یا ایوان بالا) میں اکثریت حاصل کر لی ہے جب کہ ایوان نمایندگان یعنی کانگریس میں بھی حکمران جماعت ڈیموکریٹس کو شکست کا سامنا ہے۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق مڈٹرم الیکشن کے لیے ایوان نمایندگان کی تمام 435 نشستوں پرپولنگ ہوئی جب کہ سینیٹ کی 36 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔

غیرسرکاری نتائج کے مطابق حکمران ڈیمو کریٹک پارٹی 8 برس بعد سینیٹ کی حکمرانی سے محروم ہو گئی۔ یہاں ری پبلکنز نے 36 میں سے 22 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جس کے بعد سینیٹ میں اس کی نشستوں کی تعداد 52 ہو گئی جب کہ حکمران جماعت ڈیموکریٹس صرف 11 نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکی جس کے بعد اس کی سیٹوں کی تعداد کم ہو کر 44 ہو گئی۔ اسی طرح ایوان نمایندگان کی کل 435 نشستوں میں سے ری پبلکنز نے 237 نشستیں حاصل کر لیں اور ڈیموکریٹس کو یہاں بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق صدر اوباما کی جماعت کو ایوان نمایندگان میں 179 نشستیں ہی مل سکی ہیں۔

واضح رہے کہ 2006ء کے بعد ری پبلکنز کی سینیٹ میں واضح کامیابی کے بعد امریکی صدر بارک اوباما کو اپنی حکومت کے بقیہ 2 سال انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا اور اب وہ کوئی بھی قانون ری پبلکنز کی حمایت کے بغیر منظور نہیں کرا پائیں گے۔ صدر اوباماکے منتخب ہونے کے بعد ان کی مقبولیت کا گراف کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔

رپبلکن پارٹی کے سال 2016ء کے متوقع صدارتی امیدوار رینڈ پال نے کہا ہے کہ یہ صدر کے لیے ریفرنڈم ہے۔ امریکا کے مڈٹرم الیکشن کے نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آیندہ صدارتی الیکشن میں حکمران ڈیمو کریٹک پارٹی کا صدر منتخب ہونے کا امکان کم ہے' موجودہ حالات اور نتائج کو سامنے رکھ کر یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا کا آیندہ صدر ری پبلکن ہو سکتا ہے' پاکستان کو امریکا میں ہونے والی ان سیاسی تبدیلیوں پر نظر رکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔