انڈس موٹرکمپنی کا32روپے فی شیئرحتمی ڈیویڈنڈ کا اعلان

فی حصص آمدنی گزشتہ برس 34.9 روپے سے بڑھ کر 54.7روپے ہوگئی۔


Business Reporter October 01, 2012
انڈس موٹرکمپنی کی جانب سے زیرجائزہ سال کیلیے 32روپے فی حصص کے حساب سے کل ڈیویڈنڈ کااعلان کیا گیا. فوٹو : فائل

انڈس موٹرکمپنی (IMC) کے چیئرمین علی ایس حبیب نے انڈس موٹرکمپنی لمیٹڈکے 23ویںسالانہ عام اجلاس کے موقع پرشیئرہولڈرزکی جانب سے غیرپیداواری ایام پرتشویش کے اظہارکاجواب دیتے ہوئے کہاہے کہ انڈس موٹرکمپنی کے پلانٹس پرغیرپیداواری ایام کی وجہ استعمال شدہ کاروں کی درآمدی بھرمارہے۔

جس نے مقامی طورپرتیار ہونیوالی کاروںکی پیداوارپر منفی اثرت مرتب کیے ہیں۔ شیئر ہولڈرزنے مقامی آٹوصنعت کے پھلنے پھولنے اور قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے عمل کو جاری رکھنے میں مدد دینے کے طور پر ایسی ظالمانہ پالیسیوں کیخلاف متعلقہ فورمز پر آوا ز اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ چیئرمین انڈس موٹر کمپنی علی ایس حبیب نے اس موقع پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہاکہ تمام معاشی اور سیاسی چیلنجوں کی وجہ سے آٹو میکرز اور پرزے سپلائی کرنے والوں کیلیے کاروباری ماحول غیریقینی صورت حال کا شکار رہا کیونکہ صنعت فیصلہ سازوں سے منطقی وجوہات پیش کرتے ہوئے مسلسل قومی مفاد میں فیصلے کرنے کی اپیل کرتی رہی۔

اہم کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدرمیں کمی اوردیگر ان پٹس،افراط زر،وغیرہ نے آپریشنز پرمنفی اثرات مرتب کیے ہیں ۔ نئے ماڈلز متعارف کرانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میںچیئرمین آئی ایم سی نے کہاکہ نئے ماڈل کامتعارف کرانا ایک نئی کمپنی قائم کرنے کے مترادف ہے کیونکہ اس کیلیے نہ صرف پراڈکٹ کی مکمل تشکیل اورمارکیٹنگ کی حکمت عملی شامل ہوتی ہے بلکہ نئے پرزوں اور آلات کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس میںاچھاخاصاوقت اور سرمایہ لگتاہے۔ مزیدبرآں،آٹوکی صنعت میںموجودہ پالیسیاں پیداوار میں سرمایہ کاری کیلیے سازگار نہیں۔

سالانہ عام اجلاس میں کمپنی کے 30جون 2012کو ختم ہونے والی مالی سال کی مالی اور آپریٹنگ کارکردگی کاجائزہ لیا گیا اورآڈٹ اکاؤنٹس کی منظوری دی گئی۔ انڈس موٹر کی ٹویوٹا اور ڈائی ہاٹسو برانڈزکی جون 2012کو ختم ہونے والے سال کے دوران فروخت اور پیداوارکی تعدادعلی الترتیب 55,060یونٹس اور 54,917 تھی جبکہ گزشتہ سال کے دوران یہ اعدادوشمار علی الترتیب 50,943یونٹس اور 50,759یونٹس تھے۔کمپنی کے فروخت کے محاصل 25فیصد بڑھ کر 61.7ارب روپے سے 77ارب روپے ہوگئے جس میں بعد از ٹیکس منافع 30جون 2011کو ختم ہونے والے سال میں 2.7ارب روپے کی نسبت 4.3ارب روپے شامل ہے۔

فی حصص آمدنی گزشتہ برس 34.9 روپے سے بڑھ کر 54.7روپے ہوگئی۔زیرجائزہ سال کیلیے 32روپے فی حصص کے حساب سے کل ڈیویڈنڈ کااعلان کیا گیاجبکہ گزشتہ سال کاکل ڈیویڈنڈ 15روپے فی حصص تھا ۔ شیئر ہولڈرز نے ان مشکل حالات میں بہتر ڈیویڈنڈکااعلان کرنے پرکمپنی کی انتظامیہ کی کارکردگی کی تعریف کی۔