دہشت گردوں کے خلاف کامیاب حکمت عملی

سیکیورٹی اداروں کی بہتر پلاننگ کے نتائج و عواقب سب کے سامنے ہیں ایک جانب ضرب عضب میں بڑی کامیابیاں ملی ہیں۔


Editorial December 14, 2014
وہ سیاسی قوتیں جو دہشت گردوں سے کسی نہ کسی سطح پر ہمدردی رکھتی ہیں انھیں بھی اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی کا عنصر ہے۔ فوٹو: آن لائن/فائل

ملک میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں اور اس میں خفیہ اداروں کو خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاک فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں شروع کیے گئے آپریشن ''ضرب عضب'' کے بعد دہشت گردوں کی ممکنہ جوابی کارروائی کے تدارک کے لیے ملک بھر میں لگ بھگ 2 ہزار خفیہ آپریشنز کیے گئے ہیں جن میں خفیہ اداروں نے ملک بھر میں سیکڑوں مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

ضرب عضب شروع کرنے سے پیشتر بعض حلقوں کی جانب سے یہ نکتہ اٹھایا جا رہا تھا کہ دہشت گرد ردعمل کے طور پر حملے کر کے نقصان پہنچا سکتے ہیں جس کے منفی اثرات آپریشن پر مرتب ہو سکتے ہیں اس لیے آپریشن سے پیشتر تمام ممکنہ خطرات کا اچھی طرح جائزہ لیا جانا لازم ہے۔ سیکیورٹی اداروں کو بھی ان خطرات کا بخوبی ادراک تھا' ایک سیکیورٹی اہلکار کے مطابق ''اس خطرے کے تدارک کے لیے دہشت گردوں کے سیکڑوں ممکنہ خفیہ ٹھکانوں کا پتہ چلایا گیا تھا اور متعدد مشتبہ افراد پر نظر رکھنی شروع کی گئی تھی خفیہ اداروں کی اس جامع منصوبہ بندی کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے اور مستقبل میں بھی خفیہ اداروں کے آپریشنز جاری رکھے جائیں گے''۔

سیکیورٹی اداروں کی بہتر پلاننگ کے نتائج و عواقب سب کے سامنے ہیں ایک جانب ضرب عضب میں بڑی کامیابیاں ملی ہیں اور دہشت گرد جن کے بارے میں ناقابل شکست ہونے کا ہوا کھڑا کیا جا رہا تھا یا تو مارے گئے یا فرار ہو چکے ہیں اور ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی تباہ ہو چکا ہے' دوسری جانب دہشت گرد بڑے پیمانے پر جوابی حملے کرنے میں بھی ناکام رہے' اس کا سبب سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ان کے خلاف خفیہ آپریشنز اور گرفتاریاں تھیں۔

ذرایع کے حوالے سے یہ بات بھی منظرعام پر آئی ہے کہ خفیہ آپریشنز پر خفیہ اداروں کے درمیان مربوط تعاون ہو رہے ہیں' خفیہ ادارے پولیس کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ کارروائیوں کے دوران کوئی سقم باقی نہ رہے۔ خفیہ اداروں اور پولیس کے درمیان رابطے جتنے مربوط اور منظم ہوں گے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں کامیابی کا عنصر بھی اتنا ہی بڑھے گا۔ اگلے روز مظفر گڑھ میں پولیس نے ایک مقابلے میں خود کش بمبار سمیت چار دہشت گردوں کو ہلاک کرکے خود کش جیکٹس' راکٹ لانچر' دستی بموں سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرلیا۔

وہ سیاسی قوتیں جو دہشت گردوں سے کسی نہ کسی سطح پر ہمدردی رکھتی ہیں انھیں بھی اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی کا عنصر ہے۔ اگر یہ قوتیں ملک کو حقیقی معنوں میں خوشحال اور پرامن دیکھنا چاہتی ہیں تو انھیں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ حکومت کو بھی دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے گراس روٹ لیول پر عوامی شعور اجاگر کرنا چاہیے۔