پاکستان یورپی ایٹمی ادارے کا رکن بن گیا

پاکستان کا یورپی ایٹمی ریسرچ کے ادارے کا رکن بننا یقینا بہت خوش آیند بات ہے۔


Editorial December 20, 2014
سرن اور پاکستان میں اشتراک کار 1994ء میں شروع ہوا تھا جب کہ پاکستان نے ایسوسی ایٹ رکن بننے کی درخواست 2013 میں دی تھی، فوٹو : فائل

پاکستان ایٹمی ریسرچ کے یورپی ادارے ''سرن'' (CERN) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد اس عالمی ادارے کا پہلا ایشیائی رکن بن گیا ہے اور اس ادارے کے ہیڈ کوارٹر پر یکم جنوری 2015ء سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بھی لہرا دیا جائے گا۔ اب پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئروں کو اس ممتاز یورپی ادارے کے تجربات سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے خطاب کیا اور اس معاہدے کو تاریخی حیثیت کا حامل قرار دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سرن کی رکنیت سے پاکستان کے صنعتی شعبے کو بہت فائدہ ہو گا۔ پاکستان کا یورپی ایٹمی ریسرچ کے ادارے کا رکن بننا یقینا بہت خوش آیند بات ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان بالآخر مناسب وقت آنے پر عالمی ایٹمی کلب کا رکن بھی بن جائے گا۔ پاکستان کو یورپی ادارے کا رکن بنائے جانے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امریکا کی نسبت یورپ والوں کا طرزعمل زیادہ شائستہ اور معقول ہے جو کہ یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے فلسطین کو آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی قرارداد سے بھی ظاہر ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سرن اور پاکستان میں اشتراک کار 1994ء میں شروع ہوا تھا جب کہ پاکستان نے ایسوسی ایٹ رکن بننے کی درخواست 2013ء میں دی تھی۔ اب پاکستان کو سرن کی تحقیقاتی اور تربیتی سرگرمیوں میں شرکت کی اجازت بھی ہو گی جب کہ اس کے انتظامی معاملات میں بھی حصہ لے سکے گا۔