پاکستان میں شعبہ صحت کی مایوس کن کارکردگی

سندھ کے علاقہ تھر میں 400 کے قریب بچے محض آلودہ پانی کے استعمال سے جاں بحق ہو گئے۔


Editorial December 21, 2014
سال2014ء کے دوران خسرہ سے بھی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایبولا جیسی نئی بیماری بھی چیلنج بن گئی۔ فوٹو:فائل

بلوچستان میں پولیو کے دو مزید کیسز منظر عام پر آنے کے بعد صوبے میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران عمر بھر کے لیے معذور کر دینے والی اس مہلک بیماری کے مریضوں کی تعداد 21 تک پہنچ گئی ہے۔ بلوچستان کے دو نئے مریضوں میں ایک لڑکی اور ایک لڑکا ہے جن کی عمریں ایک سے ڈیڑھ سال کے درمیان ہیں۔ واضح رہے کوئٹہ میں نومبر کے آخر میں پولیو ٹیم پر ہلاکت خیز حملے کے بعد سے بلوچستان میں انسداد پولیو مہم ملتوی کر دی گئی۔ حملے میں تین خواتین سمیت چار ورکر شہید ہو گئے تھے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سال2014ء میں ملک کے اندر شعبہ صحت کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ سندھ کے علاقہ تھر میں 400 کے قریب بچے محض آلودہ پانی کے استعمال سے جاں بحق ہو گئے۔ پنجاب میں ڈینگی وائرس کے بخار سے تین سو کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئیں۔ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کو موثر نہ بنائے جانے کے باعث جگر کے امراض میں دو گنا اضافہ دیکھا گیا۔

سال 2014ء کے دوران بھی ملک کو پولیو فری بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا جس کی وجہ سے بیرون ملک جانے والوں پر مزید پابندیاں عائد ہوتیں۔ وزارت صحت کی ناکام پالیسیوں کے باعث ملک میں پولیو کیسز کی تعداد292 تک پہنچ گئی۔ غیر ملکی اداروں کی سپورٹ سے چلانے جانے والے ایڈز کنٹرول پروگرام کو بھی موثر نہ بنایا جا سکا اور ملک میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ بھی نہ ہوسکا۔

وفاق کے اسپتالوں میں مصنوعی سانس کی مشینوں (وینٹی لیٹر) سمیت جدید مشینری کی تنصیب نہ کی جا سکی جس کی وجہ سے کئی مریض موت کے منہ میں چلے گئے۔ ملک میں ہر آٹھواں شخص ہیپاٹائٹس کا شکار ہونے کے باوجود وفاق کی سطح پر جگر کی پیوندکاری کا سینٹر قائم نہ کیا جا سکا۔ سال 2014ء کے دوران سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی بھی مسئلہ بنی رہی۔ شوگر اور ہیپاٹائٹس سمیت کسی بیماری کے تدارک کے لیے کوئی پالیسی فریم ورک نہ بن سکا ۔ سال2014ء کے دوران خسرہ سے بھی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایبولا جیسی نئی بیماری بھی چیلنج بن گئی۔