منیجر نہیں تو چیف سلیکٹر بھی نہیں معین کے آنکھیں دکھانے پر بورڈ پسپا

ورلڈکپ سے قبل غیر ضروری تنازع سے بچنے کی کوشش، حکام نے نوید اکرم چیمہ کیلیے چیف ڈی مشن کا نیا عہدہ تشکیل دے دیا


Sports Reporter December 25, 2014
ورلڈکپ سے قبل غیر ضروری تنازع سے بچنے کی کوشش، حکام نے نوید اکرم چیمہ کیلیے چیف ڈی مشن کا نیا عہدہ تشکیل دے دیا۔ فوٹو : فائل

KARACHI: معین خان کے آنکھیں دکھانے پر بورڈ نے پسپائی اختیار کر لی، سابق ٹیسٹ کپتان نے منیجر کے عہدے سے ہٹائے جانے پر چیف سلیکٹر کا عہدہ بھی چھوڑنے کی دھمکی دیدی تھی۔

ورلڈکپ سے قبل غیر ضروری تنازع سے بچنے کیلیے حکام نے نوید اکرم چیمہ کیلیے چیف ڈی مشن کا نیا عہدہ تشکیل دیدیا، معین اب بطور منیجر ہی ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا و نیوزی لینڈ جائینگے، قبل ازیں انھیں چیمہ کا نائب بننے کا کہا گیا تھا، سابق وکٹ کیپر کو نجم سیٹھی کی مکمل سپورٹ بھی حاصل ہے۔ دوسری جانب سعید کی میگا ایونٹ میں شرکت کا امکان معدوم ہونے لگا، نئے ایکشن سے وہ زیادہ کارآمد نہیں لگ رہے، اعلیٰ حکام کو کینیا کیخلاف 2میچز میں بھی ان کی کارکردگی نے متاثر نہیں کیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈکپ کیلیے نوید اکرم چیمہ کو منیجر مقرر کرتے ہوئے معین خان کو نائب بننے کی پیشکش کر دی تھی،مگر وہ اس پر سخت نالاں ہوگئے،ذرائع کے مطابق انھوں نے پی سی بی سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ اگر منیجر نہیں رہے تو چیف سلیکٹر کا عہدہ بھی چھوڑ دینگے۔

اس دھمکی کے بعد حکام نے دفاعی پالیسی اختیار کرنے میں ہی عافیت جانی، کوئی بھی ورلڈکپ سے قبل غیر ضروری تنازع نہیں چھیڑنا چاہتا، یوں معین کو دونوں عہدوں پر برقرار رکھتے ہوئے چیف ڈی مشن کا نیا عہدہ ہی متعارف کرا دیا گیا،یہ اہم ذمہ داری نوید اکرم چیمہ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ نوید اکرم چیمہ نے پہلی بار ٹیم منیجر کا عہدہ 2010 میں سنبھالا، جب دورئہ انگلینڈ کے دوران اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا، اس کی زد میں کپتان سلمان بٹ سمیت پیسرز آصف اور محمد عامر آئے، بعد ازاں تینوں پلیئرز کو جیل جانا پڑا اور آئی سی سی کی طرف سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی۔

اس وقت کے چیئرمین اعجاز بٹ نے یاور سعید کو ہٹا کر ٹیم منیجر کا عہدہ نوید اکرم چیمہ کو سونپ دیا۔3 سال سے زائد عرصے تک ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دینے کے بعد بالاخر انھوں نے قومی ٹیم کے دورئہ ویسٹ انڈیز کے بعد 3 اگست2013ء کو مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں انھیں واپڈا سے ٹرانسفر کر کے فیڈرل سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ پلاننگ بنا دیا گیا، نوید اکرم چیمہ اس وقت چیف سیکریٹری پنجاب کے اہم عہدے پر تعینات ہیں،اس انتہائی اہم ذمہ داری کو سنبھالنے کے باوجود ان کا پی سی بی کے ساتھ کسی نہ کسی طرح رابطہ برقرار رہا۔ کینیا کرکٹ ٹیم کے حالیہ دورئہ پاکستان کے دوران بھی نوید اکرم چیمہ خاصے متحرک نظر آئے اور انھوں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے بھر پور تعاون کیا۔

ذرائع کے مطابق نوید اکرم چیمہ یکم جنوری کو چیف سیکریٹری پنجاب کے عہدے سے ریٹائر ہو جائینگے جس کے بعد ان کے ورلڈ کپ کیلیے قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ چیف ڈی مشن کے طور پر جانے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوگی، معین خان کو اس پورے معاملے میں سابق چیئرمین نجم سیٹھی کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ علاوہ ازیں ورلڈ کپ میں سعید اجمل کی شرکت کا امکان معدوم ہونے لگا، نئے ایکشن سے ان کی بولنگ نے حکام کو متاثر نہیں کیا، کینیا سے دونوں میچز میں وہ زیادہ موثر دکھائی نہیں دیے،ذرائع کے مطابق مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے معطلی کاشکار دونوں بولرز سعید اجمل اور محمد حفیظ ورلڈ کپ اسکواڈکی ڈیڈ لائن سے مستثنی ہیں،آئی سی سی نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ کلیئرنہ ہونے پر ان کی جگہ متبادل کھلاڑیوں کو شامل کیا جا سکتا ہے، ورلڈ کپ کیلیے15رکنی اسکواڈ کے نام بھیجنے کی آخری تاریخ7جنوری ہے۔

سعید کے ورلڈ کپ کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ کلیئرنس رپورٹ سے مشروط ہے۔ دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سعید اجمل اور محمد حفیظ کو تاحال بھارتی ویزے نہیں ملے،پاسپورٹس ملتے ہوئے دونوں غیر سرکاری ٹیسٹ کے لئے بھارتی شہر چنئی چلے جائینگے،انکے ایکشن کی درستگی کے لیے نیشنل اکیڈمی میں کام جاری ہے، سابق ٹیسٹ کرکٹر ثقلین مشتاق نگرانی کر رہے ہیں جو ورلڈ کپ سے پہلے ان کی کلیئرنس کے لیے پُراعتماد دکھائی دیتے ہیں جبکہ اکیڈمی کے دیگر کوچز بھی معاونت کررہے ہیں۔