بشار حکومت مخالفین سے مذاکرات پر تیار

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ نرمی کا برتائو کرے


Editorial October 03, 2012
شامی وزیر خارجہ کے مطابق امریکا شام پر کیمیاوی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر بشار حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے. فوٹو: اے ایف پی

شام کے وزیر خارجہ ولید معلم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت کے مخالفین تشدد بند کر دیں تو بشار الاسد حکومت سیاسی اصلاحات کے لیے تیار ہے۔

بین الاقوامی فورم پر شام کے سرکاری نمایندے کا یہ خطاب اس اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ بشار حکومت پر تسلسل سے جو الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ مخالفین سے مذاکرات پر کسی طور بھی آمادہ نہیں ہو رہی، شامی وزیر خارجہ کے بیان سے اس الزام کی نفی ہوتی ہے۔ شامی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں امریکی حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اور اس کے اتحادی شام میں دہشتگردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ امریکا کے ان اتحادیوں میں، جن کا ذکر شامی وزیر خارجہ نے کیا ہے، فرانس کے سوا دیگر تمام مسلمان ملک شامل ہیں۔

شامی وزیر خارجہ کے مطابق امریکا شام پر کیمیاوی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر بشار حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے جس طرح کہ اس نے عراق کی صدام حسین حکومت پر بھی وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا جھوٹا الزام لگا کر اس کے خلاف تباہ کن جارحانہ کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں بیگناہ عراقی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا اور آخر میں صدر صدام کو یکطرفہ عدالتی کارروائی کے ذریعے تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔ شامی وزیر خارجہ نے امریکا کے اتحادی جن مسلمان ممالک کو امریکی سازش میں شریک قرار دیا ہے انھیں اصولی طور پر ہر گز امریکا کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے کیونکہ شام کی بشار حکومت بیشک غلطیاں کر رہی ہو لیکن مسلمان ملکوں کو اپنے کسی برادر اسلامی ملک کے خلاف غیروں کا ساتھ کسی صورت میں نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس کا نتیجہ خود ان کے لیے بہت بھیانک نکلتا ہے۔

شام کے اندر خانہ جنگی کے حوالے سے جو خبریں دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچ رہی ہیں ان کی ''سورس'' بھی وہی ممالک ہیں جو شام کے خلاف امریکا کی جارحانہ کارروائیوں میں شریک ہیں، اس لیے یہ کہنا کہ وہاں بشار کی سرکاری فوجیں ہر روز سیکڑوں ہزاروں شہریوں کو ہلاک کر رہی ہیں، ضروری نہیں کہ درست ہو اور ان خبروں میں مبالغہ آمیزی نہ کی گئی ہو۔ دریں اثناء نیٹو کے سربراہ نے شام پر امریکا کے الزام کو تقویت دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کو شام کے کیمیاوی ہتھیاروں پر سخت تشویش ہے۔ نیٹو چیف راسموسین نے دعویٰ کیا کہ وہ شام کا مسئلہ سیاسی انداز میں حل کرنے کو ترجیح دیں گے۔

دوسری طرف نیو یارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے شامی وزیر خارجہ کی خصوصی ملاقات ہوئی جس میں سیکریٹری جنرل نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ نرمی کا برتائو کرے اور ان پر کیے جانے والے حملوں کی شدت میں کمی لائے۔ گویا سیکریٹری جنرل بھی بادی النظر میںامریکی موقف کی تائید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ دوسری طرف ترکی نے کہا ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے متاثرین ترکی میں پناہ لے رہے ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ عالمی برادری شام میں قیام امن کے لیے کردار ادا کرکے تاکہ اس خطے میں امن قائم ہوسکے۔