داخلی اور خارجی خطرات

مبصرین کے مطابق بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت کی سیاست کا محور پاکستان مخالفت ہے۔


Editorial January 05, 2015
بدقسمتی سے پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے شدید متاثرہ ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال نے اس کی معیشت سمیت ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ فوٹو : فائل

اتوار کو ملک بھر میں عید میلاد النبیؐ پورے مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ اس موقع پر مساجد کے علاوہ گلیوں اور بازاروں کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجانے کے علاوہ مختلف عمارتوں پر چراغاں کیا گیا کہ اسے دیکھ کر رات پر دن کا گماں گزرتا تھا۔ اس موقع پر ملک بھر میں لاکھوں مسلمانوں نے ریلیاں اور جلوس نکالے اور سرکار کی آمد مرحبا، آقا کی آمد مرحبا کے نعرے لگاتے ہوئے اپنی عقیدت اور عشق رسولؐ کا بھرپور اظہار کیا۔ جلوسوں اور ریلیوں کے شرکاء کی خدمت کے لیے جا بجا نذر و نیاز کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

گلیوں، محلوں اور مساجد میں محافل نعت منعقد ہوئیں اور آقاؐ کے حضور عقیدت کے پھول پیش کیے گئے۔ بارہ ربیع الاول منانے کا مقصد سرور کونینؐ سے اپنی محبت و عقیدت کا خلوص دل سے اظہار اور تعلیمات اسلامی کو عام کرنا ہے۔ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں جشن میلاد النبیؐ کے موقع پر ہونے والی محافل، ریلیوں اور جلوسوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے بھرپور انتظامات کیے گئے۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی بہترین کارکردگی اور منصوبہ بندی کے باعث کہیں بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی اور یہ مبارک دن امن و امان سے گزر گیا جس کے لیے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی اپنے فرائض سے لگن اور کارکردگی قابل تحسین ہے۔ عید میلاد النبیؐ پر صوبائی دارالحکومت لاہورکے تمام اسپتالوں کو ہائی الرٹ رکھا گیا، ایمرجنسی اسٹاف کی چھٹی منسوخ کر دی گئی اور ایمبولینسز کو اسٹینڈ بائی رکھا گیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔

دوسری طرف داخلی اور خارجی طور پر ملک شدید خطرات میں گھرا ہوا ہے جہاں داخلی سطح پر دہشت گرد امن و امان کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں وہاں خارجی محاذ پر بھارت اپنے جارحانہ انداز سے پاکستان کے لیے مسائل میں اضافہ کرنے کے علاوہ اسے عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے نئے نئے ڈرامے رچانے میں مصروف ہے جو بعدازاں تحقیقات سامنے آنے پر فلاپ ثابت ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارتی وزارت دفاع نے ایک نیا ڈرامہ رچاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان سے آنے والی ایک کشتی 31 دسمبر کی شب گجرات کے قریب بھارتی سمندری حدود میں داخل ہوئی لیکن بھارتی کوسٹ گارڈ کی جانب سے چیلنج کیے جانے پر کشتی میں سوار چاروں مشتبہ افراد نے اسے آگ لگا کر تباہ کر دیا، اس کشتی میں دھماکا خیز مواد لدا ہوا تھا۔

اس واقعے کے منظرعام پر آنے کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی ایک بھارتی اخبار نے اپنی وزارت دفاع کا ڈرامہ بے نقاب کرتے ہوئے جو شواہد پیش کیے اس کے مطابق کشتی میں شراب اور ڈیزل کے اسمگلر تھے اور ماہی گیروں کی کشتی کا انجن اتنا طاقتور نہیں ہوتا کہ کوسٹ گارڈ کی تیز رفتار کشتیوں کو شکست دے سکے۔ اس واقعے سے عیاں ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت نے 2008ء میں پیش آنے والے ممبئی واقعہ کی طرز پر پاکستان کو عالمی سطح پر دباؤ میں لانے اور بدنام کرنے کا ایک اور گھناؤنا کھیل کھیلا۔ بھارتی افواج ایک طے شدہ منصوبے کے تحت سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہے اور پاکستان کے بار بار احتجاج کے باوجود اپنی جارحیت سے باز نہیں آ رہی۔ اس بھارتی مذموم کھیل کے مقاصد کیا ہیں اور بھارت نے کیا ٹارگٹ متعین کر رکھے ہیں اس پر پاکستان کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت کی سیاست کا محور پاکستان مخالفت ہے اور اسی بنیاد پر وہ انتہا پسند ہندوؤں کی حمایت حاصل اور انھیں خوش کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ کا اظہار کر رہی اور آئے دن کوئی نہ کوئی ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تناظر میں حکومت پاکستان کی کارکردگی صرف احتجاجی بیانات تک محدود ہے۔ اسے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں بھرپور انداز میں اٹھانا اور عالمی رائے عامہ کو یہ بتانا چاہیے کہ بھارت کا جارحانہ رویہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے جب کہ پاکستان اسے کئی بار بہتر تعلقات قائم کرنے کی پیشکش کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر طاقتور اقوام اس مسئلے پر مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور بھارت کو اس کے جارحانہ رویے سے باز رکھنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا جا رہا۔

آخر امریکا اور اقوام متحدہ نے بھارت کی جانب سے آنکھیں کیوں موند رکھی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکا اور یورپ، بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات بڑھا اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی صورت اسے ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ بھارت کو بھی عالمی سطح پر اپنی نئی ابھرنے والی حیثیت کا بخوبی ادراک ہے اور وہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے شدید متاثرہ ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال نے اس کی معیشت سمیت ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ سیاحت کی انڈسٹری بھی مشکلات سے دوچار ہو چکی اور سیاح پاکستان کا رخ کرنے سے کترانے لگا ہے۔ توانائی کے بحران نے صنعتی، زرعی اور تجارتی شعبے کو کمزور کیا ہے۔ ملک عزیز کو ان مشکل حالات سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اپنے باہمی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کا ہاتھ بٹانا ہو گا کیونکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے باہمی اختلافات بھی ملکی انتشار اور افتراق کا باعث بن رہے ہیں۔