بلدیاتی الیکشن کے لیے حتمی تاریخ کا عدالتی حکم

چیف جسٹس کایہ کہنا صائب ہےکہ ابھی تک قانون سازی کامرحلہ مکمل نہیں ہوسکا،لگتا ہےصوبےبلدیاتی الیکشن کرانا ہی نہیں چاہتے۔


Editorial January 09, 2015
عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی نظام کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ایسے سسٹم سے بہت سے اداروں کی اجارہ داری اور ’’کرپشن‘‘ کے دروازے بند ہونے کے امکانات ہیں۔ فوٹو: فائل

بلدیاتی انتخابات سے گریز صوبائی حکومتوں کا وتیرہ بن گیا ہے لیکن اب شاید انھیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لیے بلدیاتی انتخابات کی طرف آنا ہی ہوگا کیونکہ سپریم کورٹ نے سندھ اور پنجاب حکومت کو ایک ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کے لیے تمام لوازم مکمل کرنے کا حکم دے دیا جب کہ الیکشن کمیشن سے اگلی سماعت پر دونوں صوبوں میں انتخابات کی حتمی تاریخ طلب کرلی ہے۔ چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں فل بنچ نے کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کا اختیار الیکشن کمیشن کو دینے کا قانون ایک ہفتے میں جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو مجاز اتھارٹی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عدالت نے دونوں صوبوں کی رپورٹس مسترد کردیں۔ چیف جسٹس کا یہ کہنا صائب ہے کہ ابھی تک قانون سازی کا مرحلہ مکمل نہیں ہوسکا، لگتا ہے صوبے بلدیاتی الیکشن کرانا ہی نہیں چاہتے۔ کیونکہ سوائے کے پی کے کسی اور صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی طرف پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی، عوام میں چہ میگوئیاں گردش میں ہیں کہ صوبائی حکومتیں دانستہ بلدیاتی انتخابات سے گریز کی راہ پر گامزن ہیں، حالانکہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی نظام کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ایسے سسٹم سے بہت سے اداروں کی اجارہ داری اور ''کرپشن'' کے دروازے بند ہونے کے امکانات ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب تک صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے گریزاں ہیں۔ چیف جسٹس کا یہ کہنا آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ سماعت سے 2 دن پہلے حکومت مستعد ہوجاتی ہے پھر خاموشی چھا جاتی ہے، ٹھوس نتیجہ برآمد نہ ہو تو یہ اجلاس بیکار ہیں۔ صرف بلوچستان حکومت نے بلدیاتی الیکشن کرائے ہیں ۔

عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ میں بلدیاتی الیکشن کے لیے اقدام نہ کرنے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈ نے تو ابھی تک قانون بنانے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔ جسٹس گلزار احمد کے اس جملے سے بھی حقیقت احوال ظاہر ہوتی ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں ایک ایڈمنسٹریٹر تمام معاملات چلا رہا ہے، وہ کب چاہے گا کہ الیکشن ہوں۔ بہرحال سپریم کورٹ کا دو ٹوک انتخابات کے لیے حتمی تاریخ مانگنے کا حکم قابل تحسین ہے، بلدیاتی انتخابات اس ملک کی ضرورت ہیں، عوام کو بہتر سہولتوں کی فراہمی اور ہزار پا مسائل سے نجات دلانے کے لیے بلدیاتی نظام کا انعقاد ضروری ہوچکا ہے، وقت کے زیاں اور مفر کے بجائے صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی الیکشن کی طرف آجانا چاہیے۔