بلوچستان زمینی حقائق اور مکمل سچ

بلوچستان میں امن و امان کے لیے ارباب اختیار اپنے روایتی موقف کے خول سے نکل کر جرات مندانہ فیصلہ کریں


Editorial October 04, 2012
بلوچستان کی بد نصیبی یہ رہی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے رقبے کے حامل صوبے میں زمینی حقائق پر مبنی کھرا اور کڑا سچ کسی جانب سے مکمل نہیں بولا جاتا. فوٹو: اے پی پی/ فائل

HYDERABAD: مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ اگر بلوچ قیادت سمجھتی ہے کہ فوج اور ایف سی کی موجودگی عام انتخابات کے راستے میں رکاوٹ ہے تواسے ہٹا دیناچاہیے۔

بلوچستان میں امن کے قیام اور بلوچستان کی حقیقی قیادت کو آگے لانے کے لیے گرینڈ الائنس بنانا پڑا تو ضرور بنائیں گے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہارسپریم کورٹ بارکی سابق صدرعاصمہ جہانگیرکی رہائش گاہ پر ان کی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے جواباً کہا ہے کہ نواز شریف قومی لیڈرکی طرح بلوچستان میں امن وامان کی ذمے داری لیں تو ہم ایف سی واپس بلا لیں گے۔

ہمارا کوئی قصور نہیں تھا' پھر بھی دوسروں کی غلطیاں اپنے سر لیں اور بلوچ عوام سے معافی مانگی، بلوچستان کے واقعات کے پیچھے ان لوگوں کا ہاتھ ہے جو پاکستان کی یکجہتی اور سالمیت کونقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور چیمبر میں کاروباری برادری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل کے سپریم کورٹ میں بیان دینے اور میڈیا سے گفتگو کے بعد بلوچستان کا فلیش پوائنٹ پھر سے موضوع بحث بنا ہوا ہے تاہم اس بار میڈیا سمیت سیاسی حلقوں میں جس دردمندی سے اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان کے مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے تجاویز و آرا سامنے آرہی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اب ماضی جیسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

بلوچستان کی بد نصیبی یہ رہی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے رقبے کے حامل صوبے میں زمینی حقائق پر مبنی کھرا اور کڑا سچ کسی جانب سے مکمل نہیں بولا جاتا ، ایوب خان،یحییٰ خان، ضیاء الحق، پرویز مشرف کسی نے بھی بلوچستان میں احساس محرومی، صوبائی خود مختاری ، وسائل کی منصفانہ تقسیم ، وفاقی سطح پر اختیارات کی عدم مرکزیت اور مسلسل فوجی آپریشنز کے ہولناک اثرات و مضمرات پر قومی نوعیت کے فیصلہ کن مکالمہ کا در نہیں کھولا،اور مرحلہ آیا بھی تو بات کا بتنگڑ بنایا گیا ، بظاہر اسٹبلشمنٹ اور بلوچ سرداروں کے مابین سخت گیر رویوں کے باعث کسی سطح پر جمہوری ڈائیلاگ ، پارلیمانی آداب کے ساتھ سیاسی بات چیت اور بے لوث مفاہمت کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔

مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت اور سید مشاہد حسین پر مبنی پارلیمانی وفد کی جامع سفارشات اور 18ویں ترمیم پر عملدرآمد کے باوجود بلوچستان میں بدامنی کی بلاشبہ انتہا ہوگئی ہے ۔چنانچہ 6 عشروں میں قوم کو یہی باور کرایا گیا کہ سردار بلوچستان کا اصل مسئلہ ہیں، جب کہ بلوچ سیاست دانوں کا یہی موقف رہا ہے کہ سرداری نظام اک سامراجی بہانہ ہے، اصل میں طاقت کے سر چشمے سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کو آتش فشاں بنایا۔انتخابات تقریباً سر پر آچکے ہیں، اس لیے پیدا شدہ گمبھیرصورتحال میں نیک نیتی سے درمیانی راستہ نکالنے کا سوچا جائے۔عدلیہ کو سچ کو سامنے لانے کا موقع دیا جائے ۔

میاں نوازشریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بہت حساس ہے اس لیے وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے اپنی ذمے داری پوری اورکردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کا دوسرا بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے،اس موقع پر عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ اس وقت پنجاب کا سب سے بڑا لیڈر بلوچستان میں لگی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے اپنی آواز بلندکر رہا ہے، اس سے بلوچستان میں پنجاب کی جانب سے اچھا پیغام جا رہا ہے، مشرقی پاکستان میں ایسا کردارکسی نے ادا نہیں کیا تھا۔ میاں نواز شریف نے کوئٹہ میں صحافیوں کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں پر قائم مقدمات فوری ختم کیے جائیں اور عبدالحق شہید کے قاتل کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

ادھر جمہوری وطن پارٹی کے صدر نوابزادہ طلال بگٹی نے گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت لاہور میں جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ سینیٹر ساجد میر سے ملاقاتیں کیں اور کہا کہ بلوچستان بچانے کے لیے پنجاب کے عوام کے پاس آیا ہوں۔ سید منورحسن نے کہا کہ خطے میں امریکی عزائم کو ناکام بنانے کے لیے نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانا ہوگا،انھوں نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

دریں اثنا خضدار پریس کلب کے جنرل سیکریٹری اورسینئر صحافی عبدالحق بلوچ کے قاتلوں اوربلوچستان حکومت کی جانب سے صحافیوںکے خلاف مقدمات کے اندراج کے خلاف اسلام آباد اور لاہور سمیت کئی شہروں میں صحافتی تنظیموںنے احتجاجی مظاہرے کیے، رحمن ملک نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں گفتگو کے دوران بلوچستان میں صحافیوں کے خلاف مقدمات ختم کرنے سمیت صحافی عبدالحق بلوچ کے قتل کی جوڈیشل تحقیقات کرانے اور قاتلوںکو گرفتار کرنے پر 25لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے میڈیا پروٹیکشن ایکٹ منظور کرایا جائے گا۔

بادی النظر میں سردار اختر مینگل کے6 نکات پر اہل فکرونظر متفق ہیں کہ ان میں کوئی نکتہ غیر آئینی نہیں ،سارے نکات انتظامی اور قابل حل ہیں،صرف ان پر غور و فکر کے لیے حکمرانوں سے دانشمندی اور دور اندیشی مطلوب ہے بلکہ ریت میں حقیقت سمیت سر چھپانے کی شتر مرغ والی پالیسی سے پیچھا چھڑانے کی ضرورت ہے۔ سردار اختر مینگل کے انداز نظر سے اختلافات کے کئی زاویے سامنے آئے ہیں، بلوچ ری پبلکن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ براہمداغ بگٹی نے کہا ہے کہ 65 سالہ ظلم، جبر اور زیادتیوں نے آج ہمیں اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے کہ ہم ریاست کے ساتھ اپنے مستقبل کو تاریک تصورکرتے ہیں۔

نواب محمد اکبر خان بگٹی نے اگر خودکشی کی ہوتی تو ان کی گھڑی اور عینک سلامت نہ ہوتی حکمرانوں کے بیانات میں موجود تضاد ان کی سنجیدگی کو واضح کرتا ہے سردار اختر مینگل کے 6 نکات بلوچوں کے مسائل کا حل نہیں ۔بہرحال ابھی مزید حقائق اور تجاویز کی روشنی میں مکمل سچ تک رسائی ایک بڑا امتحان ہے۔بلوچستان میں امن و امان کے لیے ارباب اختیار اپنے روایتی موقف کے خول سے نکل کر جرات مندانہ فیصلہ کریں تاکہ دشمنوں کو بلوچستان کارڈ کھیلنے کا موقع نصیب نہ ہو۔