جان کیری کا دورہ پاکستان

پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کر کے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے۔


Editorial January 13, 2015
پاکستان اپنے حصے کا کردار مسلسل ادا کر رہا ہے۔اب باری افغانستان کی ہے ۔اس کے لیے امریکا کو رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری کا دورہ پاکستان موجودہ حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ان کے اس دورے میں کئی اہم معاملات پر بات ہوئی ہے اور کئی معاملات طے ہو جائیں گے جن کے اثرات مستقبل میں واضح ہو کر سامنے آئیں گے۔

اگلے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ون ٹو ون ملاقات کی اور منگل کو وہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل سے ملے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اور سانحہ پشاور کے بعد پاکستان میں حکومتی سطح پر سوچ میں جو تبدیلی آئی ہے، اسے سامنے رکھا جائے تو جان کیری کا دورہ پاک امریکا تعلقات میں مزید بہتری اور پائیداری کا باعث بنے گا اور شاید وقت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا یہ کہنا کہ دہشت گرد پاکستان اور امریکا کے مشترکہ دشمن ہیں اور دہشت گردی اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے۔بہت سے سوالوں کا جواب بھی ہے۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جس مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، اس میں امریکا کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے، پاکستان میں پہلی بار اعلیٰ سطح پر دہشت گردی کی سنگینی کا احساس پیدا ہوا ہے اور اس معاملے میں فوج اور سیاستدان ایک پیج پر آئے ہیں ۔یہاں تک کہ ملک کے دینی حلقوں کی اکثریت بھی دہشت گردی کی سنگینی کو محسوس کر رہی ہے۔ چند ایک آوازیں ہیں جن سے ابہام جھلکتا ہے لیکن یہ بہت محدود ہیں۔پاکستان میں یہ بڑی تبدیلی ہے۔

امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی اس تبدیلی کو محسوس کر رہی ہے اور افغانستان بھی اس کو محسوس کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی پاکستان کے دورے پر آئے اور یہاں آ کرانھوں نے جی ایچ کیو میں چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقات کی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے والے گروہ افغانستان میں مقیم ہیں، وہ وہاں سے آ کر پاکستان میں وارداتیں کر رہے ہیں۔سانحہ پشاور اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کر کے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے، اب دہشت گرد گروہ افغانستان کے ان علاقوں میں بیٹھے ہیں جو پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ملحق ہیں، اس صورت حال کا افغانستان کی حکومت کو بھی پوری طرح علم ہے،افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو پاکستانی حکام نے حقائق سے آگاہ کر دیا ہے۔

افغانستان میں مقیم اتحادی افواج کے کمانڈرز بھی حالات سے آگاہ ہیں، اب دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے افغانستان کا کردار بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ پاکستان کی پوزیشن بالکل واضح ہے۔ پاکستان میں پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف مسلسل آپریشن میں مصروف ہے جب کہ پاکستان کے شہروں اور قصبوں میں سول انتظامیہ دہشت گردوں کے خلاف مصروف کار ہے۔یہاں گرفتار دہشت گردوں کو سزائیں بھی دی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے فوجی عدالتیں بھی قائم ہو رہی ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہا ہے۔ اب گیند افغانستان کے کورٹ میں ہے اگر افغانستان کی حکومت اپنے ہاں مقیم دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرے اورپاکستان کے مجرموں کو پاکستان کے حوالے کرے تو صورت حال میں بڑی مثبت تبدیلی آئے گی۔ اب تک کی اطلاعات تو یہی ہیں کہ افغانستان اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر رہا ہے جو ایک خوش آیند بات ہے۔ امریکا کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جب تک افغانستان اپنا کردار ادا نہیں کرتا،یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی حکومت کو زمینی حقائق سے آگاہ کرے اور افغانستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ذہن کو تبدیل کرے۔ افغانستان میں صدر اشرف غنی کے پاس شاید پورا اختیار نہیں ہے۔

وہاں عبداللہ عبداللہ اور رشید دو ستم بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں، ماضی میں ان شخصیات کا پاکستان کے بارے میں رویہ روایتی سوچ پر مبنی رہا ہے اور یہ شخصیات خصوصاً عبداللہ عبداللہ بھارت کے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں ۔افغانستان میں شمالی اتحاد اور پختون قیادت کو یہ حقیقت سمجھنی ہو گی کہ جب تک افغانستان اپنے معاملات کو درست نہیں کرتا اور وہاں موجود دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کرتا ،اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ افغانستان کی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے روایتی سوچ سے باہر آنا ہو گا۔ پاکستان اپنے حصے کا کردار مسلسل ادا کر رہا ہے۔اب باری افغانستان کی ہے ۔اس کے لیے امریکا کو رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔