میچ فکسنگ کیس میں پاکستانی کرکٹرزکو بھی امید کی کرن نظر آنے لگی

مظہر محمود کے ثبوت جھوٹے ثابت ہونے پر 13فٹبالرز پر لگے الزامات دھل گئے


Sports Reporter January 17, 2015
صورتحال کا جائزہ لے رہا ہوں، اگلا قدم وکلاسے مشاورت کے بعد اٹھاؤں گا،آصف فوٹو؛ فائل

HYDERABAD: رپورٹر مظہر محمود کی گواہیاں جھوٹی ثابت ہونے پر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پاکستانی کرکٹرزکو بھی امید کی کرن نظر آنے لگی۔

تفصیلات کے مطابق عرب شیخ کا بہروپ بھر کر رپورٹنگ کرنے والے مظہر محمود کے ثبوت جھوٹے ثابت ہونے پر 13فٹبالرز پر لگے الزامات دھل گئے تھے، اس سے قبل پاپ سنگر تلیسا بھی ان کے اسٹنگ آپریشن کے نتیجے میں عائد کوکین کی ڈیل میں معاونت کے الزام سے بچ نکلی تھیں، رپورٹر کے کام کرنے کے طریقہ کار کی بھی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق مظہر محمود کے فراہم کردہ شواہد پر خدشات سامنے آنے کے بعد برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس 2011 میں اسپاٹ فکسنگ کیس میں جیل کاٹنے والے 3 پاکستانی کرکٹرزکی سزاؤں پر ازسرنو غور کر رہی ہے، انڈر کور صحافی کے شواہد پر نئے خدشات کے بعد محمد آصف، سلمان بٹ اور محمد عامر سمیت 25 دوسرے افراد کی سزاؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ نیوز آف دی ورلڈ نے انکشاف کیا تھا کہ تینوں کھلاڑیوں نے 2010 میں کھیلے گئے لارڈز ٹیسٹ میں ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈز کے عوض طے شدہ اوورز میں نو بالز پھینکنے کی حامی بھری، آئی سی سی نے فروری2011 میں سلمان بٹ پر 10سال، آصف 7 جب کہ عامر پر 5 سال کیلیے پابندی عائد کردی تھی۔

اسی سال ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ نے جوئے میں دھاندلی اور بدعنوانی کی سازش کا مرتکب ٹہراتے ہوئے ان کو قید کی سزا بھی سنائی،22 سالہ عامر آئی سی سی کی پابندی ختم ہونے کے بعد رواں سال ستمبر میں انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس کیلیے پر تول رہے ہیں۔ محمد آصف کا کہنا ہے کہ اپنے کیس میں سامنے آنے والی تازہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہوں، اگلا قدم اٹھانے کا فیصلہ وکلاء سے مشاورت کے بعد کروں گا۔