مردہ جانوروں کے گوشت کی فروخت

ملک بھر میں کوئی ایسا نظام تشکیل نہیں دیا جا سکا جو فول پروف ہو اور دوکان پر فروخت ہونے والے گوشت کی پڑتال کی جاسکے۔


Editorial January 17, 2015
حکومت کو اس حوالے سے کوئی سخت قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ عوام مضر صحت یا حرام گوشت کھانے سے محفوظ رہ سکیں۔ فوٹو : فائل

پاکستان میں مردہ اور حرام جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والوں کی گرفتاری کی خبریں اکثر اوقات اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ اب گزشتہ کچھ عرصے سے گدھے کا گوشت فروخت کرنے والوں کی خبریں بڑے تواتر سے آ رہی ہیں۔

ملک کے ہر شہر سے ایسے افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز جنوبی پنجاب کے علاقے خیرپور ٹامیوالی میں مردہ گدھے کا گوشت فروخت کرنے والے دو افراد کو اہل علاقہ نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ بیمار اور مردہ جانوروں کے گوشت کی فروخت کوئی انہونا واقعہ نہیں ، ماضی میں بھی اس قسم کی اطلاعات وقتاً فوقتا ًمیڈیا میں آتی رہتی ہیں اور تعزیر کا بھی ذکر ہوتا ہے لیکن حالیہ کچھ عرصے سے یہ بہت عام ہوگیا ہے۔آئے روز کبھی کراچی کبھی لاہور یا کسی دوسرے شہر یا قصبے سے گدھے کے گوشت فروخت ہونے والے گرفتار ہورہے ہیں۔

ملک بھر میں کوئی ایسا نظام تشکیل نہیں دیا جا سکا جو فول پروف ہو اور دوکان پر فروخت ہونے والے گوشت کی پڑتال کی جاسکے۔ اس قسم کا دو نمبر گوشت بالعموم چھوٹے ہوٹلوں یا پسماندہ علاقوں میں قائم ریستورانوں کو سپلائی کیا جاتا ہے لیکن بڑے شہروں میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔حکومت کو اس حوالے سے کوئی سخت قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ عوام مضر صحت یا حرام گوشت کھانے سے محفوظ رہ سکیں۔