جنرل کیانی کا دورۂ روس

افغانستان پر اس وقت جس اشرافیہ کا اقتدار ہے‘ وہ امریکا اور مغربی یورپ کی حامی اور اتحادی ہے


Editorial October 04, 2012
پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے‘ اس میں قصور پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا رہا ہے. فوٹو: فائل

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بدھ کو روس کے چار روزہ سرکاری دورے پر روانگی سے قبل بلوچستان کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج ہر اس سیاسی عمل کی بھرپور حمایت کرتی ہے جو پاکستان کے آئین کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے، مسئلہ بلوچستان کے کسی بھی سیاسی حل کی حمایت کی جائے گی بشرطیکہ یہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہو۔

جنرل اشفاق پرویزکیانی روس پہنچ چکے ہیں۔ یہ کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کا پہلا دورہ روس ہے۔ جنرل کیانی کا یہ دورہ پاک روس تعلقات کے تناظر میں دُور رس اثرات کا حامل ہو گا۔ امریکا' برطانیہ اور اسرائیل اس دورے پر یقیناً گہری نظریں رکھے ہوئے ہوں گے' ان کے لیے اس دورے کو ہضم کرنا خاصا مشکل ہوگا۔ سرد جنگ کے دور میں پاکستان، روس مخالف دھڑے کا حصہ رہا ہے۔ اب سرد جنگ ختم ہو چکی ہے۔ دنیا دہشت گردی کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان اور امریکا دہشت گری کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں لیکن دونوں کے درمیان بعض امور پر شدید اختلافات بھی ہیں۔

پاکستانی آرمی چیف کے دورۂ روس کو دونوں ممالک کے دفاعی تعاون میں بریک تھرو بھی تصور کیا جا رہا ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پاک روس تعلقات کے نئے دور کا آغاز بن سکتا ہے۔ اس سے قبل روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے پاکستان میں چار ملکی سربراہ کانفرنس میں شریک ہونا تھا لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ان کا دورہ ملتوی کر دیا گیا تھا، یوں چار ملکی کانفرنس بھی ملتوی ہوگئی۔ موجودہ عالمی حالات میں یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا لیکن آرمی چیف کے دورۂ ماسکو کے بعد صدر پیوٹن بھی کسی وقت پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔

ادھر افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھی پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ جب پاکستان کے آرمی چیف ماسکو روانہ ہوئے تو اس دوران افغان نیشنل آرمی کے ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل افضل امان کی قیادت میں افغان آرمی کا وفد پاکستان پہنچ چکا تھا۔ اس وفد نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا اور پاک فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل اشفاق ندیم سے ملاقات کی۔اعلیٰ سطح پر ہونے والی یہ سرگرمیاں جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے سارے خطے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ امریکا اور مغربی یورپ کے ممالک کی نظریں مشرق وسطیٰ پر بھی ہیں اور وہ وسط ایشیا کے وسائل پر بھی نظر جمائے ہوئے ہیں۔امریکا، مغربی یورپ اور جاپانی کی ترقی اور خوشحالی کاانحصار ان خطوںکے وسائل پر ہے اور وہ یہاں اپنی حامی حکومتیں چاہتے ہیں۔ادھر روس بھی اب اس بحران سے نکل آیا ہے جس کا سامنا اسے سوویت یونین کی تحلیل کے بعد تھا' روس اقتصادی اور فوجی اعتبار سے آج بھی سپر پاور ہے ۔ وہ مشرقی یورپ کو گیس سپلائی کرنے والا بڑا ملک ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں ہے۔

عالمی سیاست میں بھی وہ اپنا عمل دخل بتدریج بڑھا رہا ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے' اس میں قصور پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا رہا ہے جس نے کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی جنگ میں امریکا اور نیٹو ممالک کا ساتھ دیا حالانکہ علاقائی تناظر اور اسٹرٹیجک صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو پاکستان کو اگر سوویت یونین کا ساتھ نہیں دینا تھا تو اسے سرد جنگ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے تھا۔ بہرحال اب بھی اگر پاکستان کی قیادت کو حالات کا ادراک ہوگیا ہے تو اسے درست کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان آج جس صورتحال کا شکار ہے' اس سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا جائے۔

افغانستان پر اس وقت جس اشرافیہ کا اقتدار ہے' وہ امریکا اور مغربی یورپ کی حامی اور اتحادی ہے۔ پاکستان کو افغانستان کی جانب سے جن مسائل کا سامنا ہے' وہ ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔افغانستان سے آئے روز دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوکر قتل وغارت کرتے ہیں۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان فوجی وفد کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے لیکن قرائن یہی بتا رہے ہیں کہ افغانستان کی پالیسی میں تبدیلی نہیں ہوگی۔ بلوچستان کے بحران کی تہہ میں بھی کہیں نہ کہیں افغانستان کا کردار موجودہے ۔

بھارت بھی بلوچستان کے بحران میں ملوث ہو سکتا ہے۔ امریکا کے مفادات بھی اس میں ہیں کہ پاکستان کو کمزور کیا جائے' اب بلوچستان کے مسئلے پر مسلم لیگ ن کی قیادت نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل سے ملاقات کی ہے' بعد میں جمہوری وطن پارٹی کے رہنما طلال اکبر بگٹی لاہور آئے ہیں'حکومت بھی بلوچستان کے معاملے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ اب آرمی چیف نے بھی برملا کہہ دیا کہ بلوچستان میں فوج ہر سیاسی عمل کی حمایت کرتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو بلوچستان پر فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔

بلوچستان میں قیام امن اور ناراض بلوچ قیادت کے تحفظات دور کرنے کے حوالے سے کسی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔اس معاملے میں حکومت اور اپوزیشن اکٹھے ہیں۔ یہ ایک صحت مند علامت ہے۔ حالات سے اندازہ یہی لگتا ہے کہ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کا دورۂ روس کامیاب ہو گا۔ روس کے صدر پیوٹن بھی مستقبل میں پاکستان آئیں گے۔ یوں اس سارے خطے کی سیاست میں انقلابی دور کا آغاز ہو جائے گا۔