ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ

سرمایہ کاری کے رجحان میں مسلسل کمی رونما ہو رہی ہے


Editorial October 04, 2012
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2011-12 کی دوسری ششماہی میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا جس سے بڑی صنعتوں کی پیداوار متاثر ہوئی۔ فوٹو: فائل

ایشین ڈویلپمنٹ آڈٹ لک 2012 کی رپورٹ میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے انکشاف کیا ہے کہ توانائی بحران پاکستان کی معاشی ترقی میں رکاوٹ ہے جب کہ حکومتی قرضے مہنگائی کی وجہ بن رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2011-12 کی دوسری ششماہی میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا جس سے بڑی صنعتوں کی پیداوار متاثر ہوئی۔ توانائی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی جانب رواں نہیں ہو سکتا۔ ماضی میں پاکستان میں ڈیم اور دیگر ذرائع سے بجلی کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا سلسلہ شروع ہونے سے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ بڑی بڑی صنعتوں کا قیام عمل میں آیا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی کھنچا چلا آیا۔

گزشتہ عشرہ سے آنے والی حکومتوں نے توانائی کے بحران کا واویلا تو مچایا مگر اس پر قابو پانے کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدامات کے سوا کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا ۔ آبی منصوبے سیاسی چپقلشوں کی نذر ہو گئے۔نتیجتاً 2007ء کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ میں متواتر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ملک میں کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ ادھر کاروبار میں مندے کا رجحان ہے۔صنعتی ترقی میں اضافہ تو درکنار رہی سہی صنعتیں بھی معاشی بحران کا شکار ہو کر بند ہو رہی ہیں۔

یہی سبب ہے کہ سرمایہ کاری کے رجحان میں مسلسل کمی رونما ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اپنے سرمائے کو ڈوبنے کے خطرے سے بچانے کے لیے اسے بیرون ملک منتقل کر رہا ہے۔ حکومت نے توانائی کے بحران کو کم کرنے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بنایا مگر یہ منصوبہ ابھی تک فائلوں تک محدود ہے اور ان سے باہر آتا ممکن دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارت اقتصادی امور کے حکام نے واضح کر دیاہے کہ بارہ ارب ڈالر مالیت کے دیامر بھاشا ڈیم کو ڈونرز کی طرف سے غیر محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔

سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔ دوسری جانب کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار بنیادوں کے بجائے ماہوار بنیادوں پر لاگو کرنے کی متفقہ قرارداد منظور کر کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔ قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کے اقدام سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی تھیں بلکہ عوامی سطح پر بھی پریشانی پائی جاتی تھی۔ قیمتوں کے تعین کا ماہانہ سلسلہ بھی عوام کے مسائل میں اضافے کا باعث بنے گا۔ پٹرولیم کی قیمتوں کا تعین سالانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے اس سے روز مرہ زندگی کی تمام اشیا کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہونے سے معاشی ترقی کا عمل تیز ہو گا۔

رواں مالی سال میں بجٹ خسارے کا اندازہ 8.5 فیصد کے برابر لگایا گیا ہے۔ میکرواکنامک عدم توازن اور ڈھانچہ جاتی مسائل کے باعث رواں مالی سال کے دوران شرح نمو 3.7 فیصد ہی رہے گی کیونکہ خدشہ ہے کہ رواں سال بھی توانائی کی قلت معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہے گی۔ حکومت اگر مہنگائی پر قابو پانے اور عوامی ترقی کو حقیقی معنوں میں درست سمت رواں رکھنے میں مخلص ہے تو توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اسے ڈنگ ڈپائو پالیسیوں کے بجائے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت اپنے انتظامی امور میں موجود خامیوں پر قابو پائے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنائے جو پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔