ریلوے کو ڈیزل کی خریداری کے لیے رقم مل گئی

ریلوے کی صحیح معنوں میں بہتری کے لیے حکومت کو انقلابی منصوبہ بنانا چاہیے


Editorial October 04, 2012
مالی سال 2011-12ء میں ریلوے کو ساڑھے بائیس ارب روپے سے زیادہ خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ فوٹو فائل

پاکستان ریلوے کے پاس انجن چلانے کے لیے ڈیزل کی شدید قلت کے بارے میں خبروں کے تسلسل سے شائع ہونے کے بعد اب وزارت خزانہ نے ریلوے کو ڈیزل کی خریداری کے لیے 150 ملین 15) کروڑ( روپے دیدیئے ہیں۔

جس کے بعد لاہور ڈویژن سمیت دیگر ڈویژنوں کو گزری شام سے ڈیزل کی فراہمی شروع ہو نے کی اطلاع ہے۔ ریلوے حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ آیندہ چند روز میں ٹرین آپریشن بہتر ہو جائے گا۔ ادھر یہ اطلاع بھی ہے کہ ریلوے کا سالانہ خسارہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ مالی سال 2011-12ء میں ریلوے کو ساڑھے بائیس ارب روپے سے زیادہ خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ ریلوے کی دستاویز میں محکمے کی آمدنی ساڑھے پندرہ ارب روپے کے لگ بھگ ظاہر کی گئی ہے جب کہ اخراجات کی مد میں 43 ارب روپے سے زاید رقم خرچ ہوئی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ متعدد ٹرینیں بند ہو گئیں بلکہ خسارے میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

اب وزارت خزانہ کی طرف سے ڈیزل کی خریداری کے لیے ریلوے کو 15 کروڑ روپے کی ادائیگی سے ریلوے کی کارکردگی میں کس قدر بہتری آ سکے گی اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہی ہو سکے گا۔ ویسے بھی اربوں روپے کے خسارے کے بعد محض پندرہ کروڑ روپے کی ادائیگی سے کچھ زیادہ فرق پڑتا نظر نہیں آتا۔ مزید برآں ریلوے آپریشنز میں رکاوٹ صرف ڈیزل کی کمی کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ بیشتر انجن اپنی معیاد پوری ہونے کے بعد فرسودہ اور ناکارہ ہو چکے ہیں۔ ریلوے کی صحیح معنوں میں بہتری کے لیے حکومت کو انقلابی منصوبہ بنانا چاہیے تاکہ یہ اہم ادارہ زوال سے بچ سکے۔