’پچ سائیڈنگ‘ کرکٹ کی ساکھ کیلیے نیا خطرہ بن گئی

اینٹی کرپشن یونٹ آفیشلزکی میٹنگ میں مسئلے پرغور،آج فلینگٹن کی پریس کانفرنس


Sports Desk February 06, 2015
پاک کیویز پہلے میچ کے دوران اسٹیڈیم سے مشکوک پچ سائیڈر کو بیدخل کرنے کا انکشاف۔ فوٹو: فائل

'پچ سائیڈنگ' کرکٹ کی ساکھ کیلیے نیا خطرہ بن گئی، اینٹی کرپشن یونٹ آفیشلز کی میٹنگ میں اس پر بھی غور کیا گیا، جمعے کو اے سی ایس یو کے چیئرمین رونی فلینگٹن ورلڈ کپ کو کرپشن فری رکھنے کیلیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل بتائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پچ سائیڈنگ کرکٹ کی ساکھ کیلیے ایک نئے خطرے کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے کرکٹ میچز کے دوران پچ سائیڈرز کی موجودگی کا انکشاف ہوا،تازہ ترین واقعہ گذشتہ ہفتے سامنے آیا جب ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ون ڈے کے دوران ایک ایسے مشکوک شائق کو اسٹیڈیم سے نکالاگیا جو اپنے موبائل کے ذریعے میچ کی تازہ ترین صورتحال سے کسی کو آگاہ کرنے میں مصروف تھا۔

پچ سائیڈر عام طور پر میچ کی براہ راست نشریات میں 15 سے 25 سیکنڈز کے تعطل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یا تو خود جوا کھیلنے کی کوشش کرتے یا پھر بکیز کو معلومات فراہم کرتے ہیں، ان میں سے اکثریت کا تعلق غیرقانونی سٹہ مافیا سے ہوتا ہے۔ پچ سائیڈنگ غیرقانونی نہیں تاہم کسی کو بھی ٹکٹ پر درج قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پرسزا دی جاسکتی ہے۔ اسی وجہ سے کرکٹ آسٹریلیا نے ایک 32 سالہ برطانوی شخص راجین ملچندانی پر اپنے زیر اہتمام میچز میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

اس سے قبل آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان ابوظبی ٹیسٹ کے دوران بھی2پچ سائیڈرز کو وینیو سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ گذشتہ روز آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کی میگا ایونٹ کے حوالے سے میٹنگ ہوئی جس میں پچ سائیڈنگ کا معاملہ بھی زیر غورآیا جبکہ جمعے کو یونٹ کے سربراہ رونی فلینگن کی جانب سے بریفنگ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ دریں اثنا پاک کیویزپہلے ون ڈے کے دوران بھی اسٹیڈیم سے مشکوک پچ سائیڈر کو باہر نکالنے کا انکشاف ہوا ہے۔