بھارت کے ہاتھوں ناکامی پر سابق کرکٹرز رنجیدہ

میدان میں قومی ٹیم پلان پر عمل کرتے ہوئے دکھائی نہیں دی، ظہیر عباس


Sports Reporter February 16, 2015
یونس کو اوپنر غلط بھیجاگیا، اگر ایسا ہی کرنا تھا تو ناصر جمشید کو کیونکر آسٹریلیا طلب کیا گیا، عبدالقادر۔ فوٹو: فائل

سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ بھارت کیخلاف میچ میں پاکستان کا پلان انتہائی کمزور تھا، ظہیر عباس کے مطابق بلو شرٹس نے اپنے اہداف سامنے رکھتے ہوئے بولنگ اور بیٹنگ کی۔

گرین شرٹس نے دماغ کا استعمال نہیں کیا،دباؤ میں آکر ہمارے فیلڈرز کیچ چھوڑتے اور بیٹسمین سنگلز لینے سے گریز کرتے رہے، محسن خان کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم نے اپنی قوت اور کمزوریوں کو دیکھ کرحکمت عملی بنائی، پھر اس پر عمل بھی کیا،مصباح الحق الیون کی سوچ منتشر نظر آئی، عبدالقادر کا کہنا ہے کہ اگر یونس خان کو ہی اوپنر بھیجنا تھا تو ناصر جمشید کو کیوں بھجوایا گیا، یوسف کے مطابق تجربہ کار بیٹسمین کو خود ہی سوچ لینا چاہیے کہ ان کی ٹیم میں کہاں جگہ بنتی ہے، ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ بیٹنگ لائن ابتدا میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتی تو آخر میں کپتان کریز پر تنہا نہ رہ جاتے۔

عامر سہیل کے مطابق بھارت کے ہر کھلاڑی نے ذمہ داری اٹھانے کی کوشش کی لیکن پاکستان ٹیم کی صورتحال اس کے برعکس تھی۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈکپ کے اولین میچ میں ہی بھارت کے ہاتھوں شکست پر سابق کرکٹرز بھی رنجیدہ ہیں،بیشتر کا کہنا ہے کہ گرین شرٹس کا کوئی پلان نہیں تھا، اگرکوئی تھا بھی تواس پر کوئی عمل کرتا نظر نہیں آیا، ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ ون ڈے کرکٹ کیلیے خاص حکمت عملی ہوتی ہے، بیٹنگ ہو یا بولنگ50 اوورز کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے اہداف مقرر کیے جاتے ہیں، پاکستان نے ان میں سے کسی پلان پر عمل نہیں کیا۔

فیلڈنگ میں کیچ چھوڑ نے کے علاوہ رنز بنانے کے مواقع فراہم کرنے کی وجہ سے 301کا ہدف ملا جس کا تعاقب کرتے ہوئے بیشتر پلیئرز نے دماغ کا استعمال ضروری نہیں سمجھا، صرف چوکے چھکے لگانے سے بات نہیں بنتی، سنگلز اور ڈبلز کیساتھ رنز کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے لیکن ہمارے بیٹسمین دباؤ میں آکر رنز بنانا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ محسن خان نے کہا کہ بھارتی ٹیم نے اپنی قوت اور کمزوریوں کے دیکھ کر بہترین حکمت عملی بنائی، پھر اس پر عمل بھی کیا، مصباح الحق الیون کی سوچ منتشر نظر آئی، منیجمنٹ کا کوئی کردار نظر نہیں آیا، مختلف افراد کے عہدے بار بار تبدیل کرنے سے ٹیم کی کوئی سمت ہی طے نہیں ہوتی، میگا ایونٹ کیلیے لانگ ٹرم پلان بناکر اس پر کام کیا جاتا ہے جبکہ ہم ابھی تجربات کررہے ہیں۔

عبدالقادر کا کہنا ہے کہ اہم میچ میں انتہائی ناقص حکمت عملی نے شکست کا ایک اور داغ گرین شرٹس پر لگا دیا،بڑی ٹیمیں ایک عرصہ قبل تیاری اور بیک اپ تیار کرتی ہیں، ہماری پلیئنگ الیون ہی نہیں بن پارہی، فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں،آؤٹ آف فارم یونس خان سے رنز نہیں بن پارہے،ان کو اوپنر بھیج دیا گیا، ایسا عجیب تجربہ کرنا تھا توناصرجمشید کو کیوں بھجوایا گیا؟ پہلے وارم اپ میچز میں ہی تجربہ کار بیٹسمین کواننگز کے آغازکیلیے بھجوانا شروع کردیتے،بھارتی بیٹسمین اسپنرز کو اچھا کھیلتے ہیں، یاسر شاہ کو کھلانے کا فیصلہ بھی بہتر نہیں تھا، حارث سہیل کویواے ای کی ناہموار وکٹوں پر ایک بولر بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ان سے کبھی بھی پورے 10اوورز کرانے کی توقعات وابستہ نہیں کرنا چاہئیں۔

انھوں نے کہا کہ میں چیف سلیکٹر ہوتا تو آسٹریلیا میں کھیلنے کا تجربہ رکھنے والے شعیب ملک کوٹیم میں شامل کرتا۔محمد یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فیلڈنگ میں ناقص کارکردگی سے بھارت کا اچھا ٹوٹل بنوادیا تھا لیکن ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے غلط اسٹروکس کھیل کر اپنی مشکلات میں اضافہ کیا،یونس خان کو اوپنر بھیجنا غلط فیصلہ تھا، تجربہ کار بیٹسمین کو خود ہی سوچ لینا چاہیے کہ ان کی ٹیم میں کہاں جگہ بنتی ہے۔ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ابتدائی 10اوورز میں بہتر بولنگ سے بھارت کو دباؤ میں رکھا لیکن بعد ازاں بھارتی بیٹسمین ردھم میں آتے گئے اور پوری اننگز میں چھائے رہے۔

آخری اوورز میں پیسرز بہتر بولنگ نہ کرتے تو رنز کا پہاڑ اور بھی بڑا ہوجاتا، بیٹنگ لائن بھی دباؤ برداشت نہ کرسکی، ابتدا میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتی تو آخر میں کپتان کریز پر تنہا نہ رہ جاتے، وکٹیں گنوانے کا یہ نتیجہ ہواکہ خراب بولنگ کرنے والے ایشون کیخلاف بھی رنز نہ بنائے جاسکے، کوہلی کا ڈراپ کیچ بھی مہنگا ثابت ہوا،ریگولر اور قابل بھروسہ وکٹ کیپر کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ عامر سہیل کے مطابق بھارت کے ہر کھلاڑی نے ذمہ داری اٹھانے کی کوشش کی لیکن پاکستان ٹیم کی صورتحال اس کے برعکس تھی، متعدد غلطیوں کی وجہ سے ہی ہم کسی موقع پر بھی حریف کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے نظر نہیں آئے۔

اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ یونس خان پہلے ہی دباؤمیں تھے، ان کو اوپننگ کیلیے بھیجنا مناسب نہیں تھا،دباؤ میں احمد شہزاد نے بھی بہت زیادہ گیندیں ضائع کیں،پھر وکٹ بھی گنوادی، کوئی 30رنز بنانے کے بعد سیٹ ہونے کے بعد اپنی غلطی سے وکٹ گنوادے تو ایک جرم ہے، صہیب مقصود کو بھی آتے ہی باہر جاتی گیند کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں تھی،اس طرح کی غلطیاں کرینگے تو اچھا ہدف دیا جاسکے گا، نہ ہی تعاقب ممکن ہوسکے گا۔