پاکستان کی سیمی فائنل میں ہار

ادھر ہمارے ہاں یہ کلچر پختہ نہیں ہوسکا کہ کوئی کھلاڑی خود ہی ریٹائر ہو جائے


Editorial October 05, 2012
کھلاڑیوں پر تنقید بھی کی جاسکتی ہے لیکن یہ تنقید تکنیکی نوعیت کی ہونی چاہیے، اس میں کینہ، بغض یا تعصب نہیں جھلکنا چاہیے. فوٹو: اے ایف پی

KARACHI: ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کی ٹیم سری لنکا سے ہار گئی۔

اس ہار پر سابق کرکٹرز' کرکٹ تجزیہ نگار اور شائقین اپنے اپنے انداز میں تنقید کر رہے ہیں۔ شائقین کی تنقید عوامی جذبات کی آئینہ دار ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کو جیتتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض سابق کرکٹرز، تجزیہ نگار اور ٹی وی اینکرز کا رویہ پسند نا پسند کا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر تنقید نگار نے اپنے اپنے کھلاڑی منتخب کر رکھے ہیں اور وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ ٹیم ہارے یا کوئی کھلاڑی ناکام رہے تو اس کے پرخچے اڑائے جائیں۔ سیمی فائنل میں سری لنکا سے ہارنے پر بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔

اس سے قبل بھارت سے شکست پر بھی آسمان سر پر اٹھا لیا گیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ کھیل میں ہار جیت اس کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل ہاری ہے۔ اس ہار کی وجوہات جاننا ضروری ہے۔ کھلاڑیوں پر تنقید بھی کی جاسکتی ہے لیکن یہ تنقید تکنیکی نوعیت کی ہونی چاہیے، اس میں کینہ، بغض یا تعصب نہیں جھلکنا چاہیے۔ ہو یہ رہا ہے کہ کوئی کہتا ہے کہ ٹیم کے کپتان محمد حفیظ کو ہٹا دیا جائے' کوئی کہتا ہے کہ فلاں کھلاڑی کو نکال دیا جائے اور فلاں کو ٹیم میں رکھا جائے۔ کرکٹ چونکہ کمرشل کھیل ہے، اس لیے مفادات کا عنصر بھی داخل ہو گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض حلقے مختلف تعصبات کو ہوا دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ادھر ہمارے ہاں یہ کلچر پختہ نہیں ہوسکا کہ کوئی کھلاڑی خود ہی ریٹائر ہو جائے۔ قومی ٹیم کے بعض سینئرکھلاڑی اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ انھیں خود ہی کرکٹ کو خیر باد کہہ دینا چاہیے۔ سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم نے اچھی فائٹ کی۔ دوسری باری کھیلنے کے لیے وکٹ خاصی مشکل تھی' سری لنکا کو ہوم گرائونڈ کا ایڈونٹیج بھی تھا' عمر گل کا آخری اوور بھی خاصا مہنگا ثابت ہوا۔ شعیب ملک اور شاہد آفریدی یکے بعد دیگرے آئوٹ ہو گئے۔

جب یہ دونوں کھلاڑی آئوٹ ہوئے' وہ فیصلہ کن لمحات تھے' اگر یہ دونوں کھلاڑی تین چار اوور کھیل جاتے تو پاکستان با آسانی میچ جیت سکتا تھا۔ اسد شفیق جیسا ٹیکنیکلی ساونڈ بلے باز اس وکٹ پر رنز بنا سکتا تھا، اسے چانس دیا جانا چاہیے تھا' اسے شعیب ملک یا شاہد آفریدی میں سے کسی ایک کی جگہ موقع دیا جا سکتا تھا' اسی طرح عبدالرزاق کو نہ کھلانے کا فیصلہ بھی دانشمندانہ ثابت نہیں ہوا۔ بہر حال یہ سب باتیں اندازے اور توقعات ہیں، ممکن ہے، جن کھلاڑیوں کو کھلانے کی بات ہو رہی ہے، وہ بھی ناکام ہو جاتے۔ لہٰذا اب ضروری یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ' سلیکٹرز اور کھلاڑیوں کو اپنی ناکامیوں اور خامیوں پر غور کرنا چاہیے اور مستقبل میں اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔