سرفراز احمد سابق کرکٹرز کی آنکھ کا تارا بن گئے

سرفرازنے پر اعتماد بیٹنگ سے ٹیم کا مزاج ہی بدل کر رکھ دیا ہے اور اس نے بطور اوپنر بھی اپنی افادیت ثابت کردی، عبدالقادر


Sports Reporter March 16, 2015
سرفراز احمد نے پر اعتماد بیٹنگ سے ٹیم کا مزاج ہی بدل کر رکھ دیا ہے اور اس نے بطور اوپنر بھی اپنی افادیت ثابت کردی، عبدالقادر۔ فوٹو: فائل

سابق کرکٹرز سرفراز کی ستائش میں ہم آواز ہوگئے، جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کواوپنرز کی جانب سے اچھے آغاز کی اشد ضرورت تھی، نوجوان وکٹ کیپر بیٹسمین توقعات پر پورا اترے۔

عبدالقادر نے کہا کہ ٹاپ پر ایک اچھا پلیئر ملنے سے گرین شرٹس کا موڈ ہی تبدیل ہوگیا، محسن خان کا کہنا ہے کہ محمد عرفان کی عدم موجودگی میں بولرز نے بھی اپنا کردار بخوبی نبھایا، عامر سہیل نے کہا کہ میڈیا نے مسائل کی بار بار نشاندہی کرتے ہوئے منیجمنٹ کو درست فیصلوں پر مجبور کردیا جس کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پہلے 4میچز میں پلیئنگ الیون کے قابل نہ سمجھے جانے والے سرفراز احمد اپنی عمدہ کارکردگی کی بدولت شائقین اور سابق کرکٹرز کی آنکھ کا تارا بن چکے ہیں۔

ورلڈکپ 1992کی فتح کے ہیروز میں شامل جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ میگاایونٹ کے ابتدائی مقابلوں میں اوپنرز کی ناکامی کی وجہ سے ٹیم کی مہم کمزور رہی،بیٹنگ دباؤ میں کھیلنے پر مجبور نظر آئی، پروٹیز کے خلاف میچ میں سرفراز کی آمد سے حالات قدرے بہتر ہوئے، اعتماد کی بحالی کا یہ سفر آئرلینڈ کیخلاف پریشر گیم میں بھی دیکھنے میں آیا،ایڈیلیڈ کی پچ پر اسٹروکس کھیلنے میں دشواری محسوس ہورہی ہے، پاکستان نے بڑی سمجھداری سے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے کسی قسم کا غیر معمولی جوش دکھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی، اچھی بات ہے کہ کینگروز کیخلاف کوارٹر فائنل میچ بھی اسی میدان پر ہوگا،گرین شرٹس اچھی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو کانٹے دار میچ کی توقع کرسکتے ہیں۔

عبدالقادر نے کہا کہ سرفراز احمد نے پر اعتماد بیٹنگ سے ٹیم کا مزاج ہی بدل کر رکھ دیا ہے،اس نے بطور اوپنر بھی اپنی افادیت ثابت کردی، ہیڈکوچ وقار یونس کو اپنی غلطی کا اعتراف کرلینا چاہیے،جنوبی افریقہ کیخلاف جیت سے حوصلے جوان ہونے کی وجہ سے ہی گرین شرٹس کسی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوئے،اس حوصلے اور عزم کو لیکرآگے بڑھیں تو کینگروز کو بھی زیر کیا جاسکتا ہے،اس مشکل رکاوٹ کو عبور کرلینے سے منزل صاف نظر آنے لگے گی،انھوں نے کہا کہ ذاتیات پر غیر ضروری تنقید سے گریز کرتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کیساتھ ٹیم کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہوگی۔

محسن خان کا کہنا ہے کہ محمد عرفان کی عدم موجودگی میں بولرز نے بھی اپنا کردار بخوبی نبھایا، سرفراز کی اننگز ذمہ دارانہ تھی، احمد شہزاد بھی اچھا کھیل رہے تھے لیکن اچانک وکٹ گنوادی، اگر کریز پر کھڑے رہتے تو سنچری بھی بناسکتے تھے، آسٹریلیا کیخلاف کوارٹر فائنل سے قبل حریف ٹیم کے ایک ایک کھلاڑی پر ہوم ورک مکمل کرکے حکمت عملی بنانی اور پھر اس پر عمل بھی کرنا ہوگا۔

عامر سہیل کا کہنا ہے کہ منیجمنٹ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کی ابتدا میں مہم کمزور رہی،میڈیا کی طرف سے بار بار غلطیوں کی نشاندہی کے بعد درست فیصلوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آنے لگے ہیں،سرفراز احمد کو کھلانے کا نتیجہ سب کے سامنے ہے، بولنگ اور فیلڈکھڑی کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے آئرش ٹیم دباؤ میں رہی،کینگروز کو ہوم گراؤنڈ پر زیر کرنا آسان کام نہیں لیکن کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا درست انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان اس بڑے برج کو بھی الٹا سکتا ہے۔