دماغ چاٹنے والے جرثومے نیگلیریا سے3افراد ہلاک ہوئے

واٹر بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانی میں کلورین کی مقدار اعشاریہ 5PPM تک بڑھا دے


Staff Reporter October 09, 2012
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے کہا ہے کہ نیگلیریا کا جرثومہ ناک کے ذریعے دماغ میں جاتا ہے اس لیے ناک میں پانی ڈالتے وقت احتیاط کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل فوٹو: فائل

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے کہا ہے کہ ستمبر کے آخری ہفتے میں کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا سے جان لیوا بیماری نیگلیریا کے 3 کیس رپورٹ ہوئے

جو تشویشناک بات ہے وائرس سے مرنے والے تینوں افراد کی موت سوئمنگ پول میں نہانے سے نہیں ہوئی ہے اس لیے واٹر بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پانی کے ذخائر میں کلورین کی مقدار اعشاریہ 5PPM تک بڑھا دی جائے تاکہ پانی میں نیگلیریا جرثومہ پیدا نہ ہونے پائے ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیرکو سیکریٹری صحت کے دفتر میں پریس کانفرنس میں کیا اس موقع پرکمشنر کراچی ہاشم رضا زیدی ، واٹر بورڈ کے ایم ڈی مصباح الدین فرید ، چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت عامر معین پیرزادہ اور دیگر بھی موجود تھے، ڈاکٹر صغیر احمد نے کہا کہ نیگلیریا میں اموات کی شرح 98فیصد ہے یہ ایک امیبا ہے جو دماغ کو چاٹ جاتا ہے ۔

جولائی ا ور اگست میں نیگلیریا کے شہر کے مختلف اسپتالوں میں کیسز رپورٹ ہوئے تھے جن میں جاں بحق ہونے والوں میں نیگلیریا کی موجودگی کا باعث سوئمنگ پول میں نہانا تھا لیکن ستمبر کے مہینے میں ہونے والی تینوں اموات میں مرنے والوں کی وجہ موت سوئمنگ پول میں نہانا نہیں ہے،واٹر بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانی میں کلورین کی مقدار اعشاریہ 5PPM تک بڑھا دی جائے اور ساتھ ہی ہم نے اسپتالوں کو بھی ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اسپتالوں میں نیگلیریا کے حوالے سے خصوصی اقدامات کریں، صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ نیگلیریا کا جرثومہ ناک کے ذریعے دماغ میں جاتا ہے اس لیے ناک میں پانی ڈالتے وقت احتیاط کی ضرورت ہے، شہریوں کو چاہیے کہ وہ پانی کو ابال کر استعمال کریں اور پانی کے ٹینک یا پانی ذخیرہ کرنے کی تمام جگہوں کو مہینے میں دو بار صاف کریں، محکمہ صحت نیگلیریا سے متعلق شعور اجاگر کرنے کیلیے تشہیری مہم چلائے گا۔