ہیروئن اسمگلنگ کی بڑی واردات اے این ایف کا عدالت پر اظہار عدم اعتماد

عدالت کے سربراہ نے استغاثہ کو شہادتیں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی، اپیل میں الزام.


Staff Reporter October 09, 2012
عدالت کے سربراہ نے استغاثہ کو شہادتیں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی، اپیل میں الزام. فوٹو: فائل

اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف ) نے ملکی تاریخ میں ہیروئن اسمگل کرنے کی سب سے بڑی کوشش کرنے والے ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنیوالی عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔

اسی سلسلے کے دوسرے مقدمے سے ملزمان کی بریت کے خلاف بھی اپیل سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردی، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس ریاضت علی سیہڑ پرمشتمل2رکنی اپیلیٹ بینچ نے مدعا علیہان کو 16 اکتوبر کیلیے نوٹس جاری کردیے، اے این ایف نے الزامات عائد کیے ہیں کہ امتناع منشیات کی خصوصی عدالت کے سربراہ ذاکر حسین نے دونوں مقدمات کی ایک ساتھ سماعت کے بجائے علیحدہ علیحدہ فرد جرم عائد کی، استغاثہ کے شہادتیں پیش کرنے میںرکاوٹیں پیدا کیں، مفرور ملزمان کو قانونی کور فراہم کرنے کی کوشش کی، غیر حاضر ملزم کے دستخط عدالت کے ریکارڈ پر پائے گئے اس لیے ملکی تاریخ میں ہیروئن کی سب سے زیادہ مقدار372کلو گرام ہیروئن کی اسمگلنگ کے ایک مقدمے سے نہ صرف ملزمان رہا ہوچکے ہیں بلکہ دوسرے مقدمے سے بھی رہائی کا امکان ہے اس لیے اس عدالت سے مقدمے کی سماعت منتقل کردی جائے۔

اے این ایف نے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حبیب احمد کے توسط سے ملزمان کی رہائی کے خلاف اپیل اور مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ 23 مئی 2011 کو اے این ایف نے بیرون ملک ماچس برآمد کرنے کے کنسائنمٹ پر چھاپہ مارا، وہاں کنٹینرز سے ماچس کے بنڈلوں میں سے بڑی مقدار میں ہیروئن برآمد ہوئی، جائے واردات سے ماچس برآمد کرنیوالی علی ٹریڈنگ کمپنی کا نمائندہ کامران اور کلیئرنگ ایجنٹ خالد انور کو حراست میں لیاگیا، موقع پر تفتیش کے دوران انھوں نے بتایا کہ اس سامان کے اصل مالک محمد علی شاہ اور عبیداللہ ہیں، انھوں نے انکشاف کیا کہ مزید سامان حسن پنہور ویلیج نیشنل ہائی وے پر موجود گودام میں بھی ہے۔

جس پر وہاں سے بھی 264کلو ہیروئن برآمد ہوئی اور مرکزی ملزم محمد علی شاہ کے دست راست عبیداللہ ، چوکیدار حبیب اور نذیر خان کو بھی گرفتارکیاگیا،اے این ایف نے حسن پنہور ولیج سے ملنے والی ہیروئن کا مقدمہ درج کرلیا،اس دوران ماچس کی پیکٹوں سے ملنے والی ہیروئن کی برآمد کا سلسلہ جاری تھا اوران پیکٹوں سے108کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی، اے این ایف نے ایکسپورٹر کمپنی کے مالک ذیشان، پارٹنر محمد آصف، طارق عرف گل خان ، گروہ کے مرکزی فنانسر محمدخان ،اس کے برادر نسبتی محمد فواد اوردیگر کے خلاف مقدمات درج کرلیے۔

اے این ایف کے مطابق محمد فواد پشاور میں ایم بی بی ایس کا طالبعلم ہے تاہم گرفتاری کے موقع پر اس کے اکائونٹس سے ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر برآمد ہوئے جس کی وہ کوئی وضاحت نہیں کرسکا، اے این ایف نے موقف اختیار کیاہے کہ ملزم حبیب فروری میں ضمانت منظور پر رہا ہونے کے بعد فرار ہوگیا اور اپریل میں عدالت نے اس کی ضمانت منسوخ بھی کردی لیکن فیصلے سے قبل ملزم کے حاضر ہوئے بغیر مقدمے میں کسی اور ملزم کے وکیل کی درخواست پر مفروری کو غیر حاضری قراردیتے ہوئے غیر حاضری معاف کردی اور ملزم کو بری کردیا جبکہ قانون کے مطابق مفرور ملزمان کا مقدمہ علیحدہ کردیا جاتا ہے، اسی طرح ماتحت عدالت نے ملزم ذیشان جو کہ ضمانت کے بعد مقدمے کے فیصلے تک عدالت سے فرار رہا، اس کی مفروری کی مدت کو بھی غیر حاضری قراردیا اور پھر غیر حاضری معاف کردی۔