ہاکی کیمپ میں مینجمنٹ نے پلیئرز کی فٹنس بہتر بنانے کا عزم کرلیا

انٹرنیشنل معیار پر پورا اترنے اور عمدہ کارکردگی دکھانے والوں کو ہی قومی ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا، ہیڈ کوچ شہناز شیخ


Sports Reporter April 14, 2015
انٹرنیشنل معیار پر پورا اترنے اور عمدہ کارکردگی دکھانے والوں کو ہی قومی ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا، ہیڈ کوچ شہناز شیخ۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

اولمپکس کوالیفائر کی تیاری کیلیے قومی ہاکی کیمپ کا دوبارہ لاہور میں آغاز ہوگیا، مینجمنٹ نے پلیئرز کی فٹنس بہتر بنانے کا عزم کرلیا، گذشتہ روز منتخب 37کھلاڑیوں میں سے 32نے رپورٹ کردی۔

راشد محمود اور رضوان سینئر لیگ میں شرکت کیلیے یورپ میں موجود ہیں، کاشف اورعرفان ان فٹ ہونے کی وجہ سے ٹریننگ کیلیے نہیں آسکے، ایک پلیئر کی آمد منگل کو نشان حیدر ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے کے بعد ہوگی، پہلے روز فٹنس پر خاص توجہ دی گئی، بعد ازاں مختلف پوزیشنز پر کھیلنے والے پلیئرز کی خامیاں درست کرنے کیلیے کام کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ریو اولمپکس 2016کے کوالیفائرز کی تیاری کیلیے قومی ٹیم کا اسلام آباد میں کیمپ رواں ماہ کے پہلے ہفتے تعطل کا شکار ہوگیا تھا، بعدازاں پی ایچ ایف کے صدر اختررسول نے وزیر اعظم اور سرپرست اعلیٰ نواز شریف سے ملاقات کرکے مالی مسائل سے آگاہ کیا، انھوں نے فنڈز کی فراہمی پر حامی بھر لی لیکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اعتراض سامنے آگیا کہ ماضی میں ملنے والی رقم کا درست استعمال نہیں کیا گیا، اس لیے پہلے آڈٹ ہوگا۔

اس صورتحال میں کھلاڑی گھروں میں موجود اور مایوسی کا شکار تھے، کئی تو قطر میں لیگ کھیلنے کو بھی تیار تھے لیکن پھر پنجاب حکومت کو قومی ہاکی پر ترس آگیا، اب 16روزہ کیمپ کیلیے مطلوبہ رقم میسر ہونے سے جوہر اسٹیڈیم میں اہتمام کیا جا رہا ہے، اتوار کی شب منتخب 37کھلاڑیوں میں سے 32نے رپورٹ کردی تھی، دیگر 5پلیئرز میں سے راشد محمود اور رضوان سینئر لیگ مقابلوں میں شرکت کیلیے یورپ میں موجود ہیں، کاشف اورعرفان ان فٹ ہونے کی وجہ سے ٹریننگ کیلیے نہیں آسکے جبکہ ایک کھلاڑی بہاولپور میں جاری نشان حیدر ٹورنامنٹ میں شریک اور فائنل کھیلنے کے بعد رپورٹ کردے گا، کیمپ کے پہلے روز پلیئرز کی فٹنس پر خاص توجہ دیتے ہوئے مختلف ڈرلز کرائی گئیں،کڑی دھوپ میں بھرپور سیشن کے دوران سخت مشقت کرائی گئی۔

بعد ازاں مختلف پوزیشنز پر کھیلنے والے پلیئرز کی خامیاں درست کرنے کیلیے کام کیا گیا،اس دوران ہیڈ کوچ شہناز شیخ اور معاون اسٹاف نے بڑے غور سے کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے نوٹس بھی مرتب کیے، اسلام آباد کے نصیر بندہ اسٹیڈیم میں ٹریننگ کے دوران کئی کھلاڑی آسٹروٹرف کی خراب حالت کے سبب انجریز کا شکار ہوگئے تھے، لاہور میں بہتر ماحول ملنے کی وجہ سے انھوں نے سکھ کا سانس لیااور بڑی خوش دلی سے پریکٹس میں مصروف رہے۔ ہیڈ کوچ شہناز شیخ نے کہاکہ تربیتی کیمپ معطل رہنے پر10دنوں کیلیے ہرکھلاڑی کو انفرادی ٹریننگ پلان دیا تھا، امید ہے اس پر انھوں نے عمل بھی کیا ہوگا، ٹرائلز کے دوران فٹنس کی خاص طور جانچ کریں گے،اس لحاظ سے انٹرنیشنل معیار پر پورا اترنے اور عمدہ کارکردگی دکھانے والوں کو ہی قومی ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا۔