سپریم کورٹ کی آلودگی سے متعلق رپورٹ پیش نہ کرنے پر برہمی

سیکریٹری وزارت ماحولیات کو آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت


Staff Reporter October 11, 2012
کیمیائی فضلے سے جاں بحق 2 بچوں کے لواحقین کو معاوضے کی رقم ادا کردی گئی. فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے آلودگی کے خاتمے سے متعلق اقدامات کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سیکریٹری وزارت ماحولیات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران تیاری کرکے نہیں آتے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل بینچ نے حکومت سے سمندری و فضائی آلودگی کے خاتمے کیلیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی ہے، فاضل بینچ نے بدھ کو صنعتی فضلے کے باعث ہلاکتوں اور آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات میر حسین علی نے عدالت کو بتایا کہ صنعتی آلودگی کے خاتمے کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں، کیمیائی فضلہ جمع کرنے کیلیے تین پوائنٹس قائم کردیے گئے ہیں، صنعتوں کو پابند کیاگیا ہے کہ ماحولیات سے متعلق قوانین پر مکمل عمل درآمد کریں۔

سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم پر کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ ایس تھری پروجیکٹ کیلیے وفاقی حکومت نے رواں سال کے بجٹ میں ایک ارب70کروڑ روپے مختص کردیے ہیں، مذکورہ منصوبے کیلیے کورنگی میں300ایکڑ اراضی حاصل کرلی گئی ہے، عدالت کے استفسار پر سیکریٹری ماحولیات نے بتایا کہ اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ جمع کرادی جائیگی، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سرکاری افسران تیاری کرکے نہیں آتے، عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ جمع کرادی جائے، عدالت کو بتایا گیا کہ کیمیائی فضلے سے جاں بحق ہونے والے دو بچوں کے لواحقین کو معاوضے کی رقم ادا کردی گئی ہے، عدالت نے سماعت 16اکتوبر تک ملتوی کردی۔