15برس سے زیر التوا منشیات کیس کا فیصلہ سنادیا گیا

ملزم صابر کو جرم ثابت ہونے پر 25برس قید اور 5لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی


Staff Reporter October 12, 2012
گواہی کیلیے پیش نہ ہونے پر واٹر بورڈملازمین کے وارنٹ،مقدمے کو اے کلاس قرار دینے پر نوٹس۔ فوٹو: فائل

15برس سے زیرالتوا منشیات کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا گیا۔

10برس قبل مقدمے میں نامزد دو ملزمان اشرف اور اقبال نے مقدمے کے التوا ہونے کے باعث اپنا جرم قبول کرلیا تھا جس پر اس وقت کے فاضل جج نے دونوں ملزمان کو عمرقید کی سزا سنائی تھی، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج ثنا اﷲ غوری نے منشیات اسمگل کرنے کے الزام میں ملوث صابر حسین کو جرم ثابت ہونے پر 25برس قید اور 5لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

مجرم کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید تین برس قید بھگتنا ہوگی، استغاثہ کے مطابق27دسمبر 1997 کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے ماڑی پور کے علاقے میں چھاپہ مارکر ٹرک سے ایک سو کلو ہیروئن برآمد کی تھی اور موقع پر مذکورہ ملزمان کو گرفتار کیا تھا، 5جولائی 2003کو سزایافتہ دو ملزمان نے مقدمے کے التوا ہونے پر اپنے جرم کا اعتراف کرلیا تھا جس پر دونوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی،2001میں استغاثہ کی جانب سے مقدمے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر عدالت نے مجرم صابر کو ضمانت پر رہا کردیا تھا، سزا یافتہ ملزمان نے سزا کیخلاف اپیل دائر کردی تھی۔

جمعرات کو فاضل عدالت نے عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مجرم صابر کو سزا سنائی اور ضمانت منسوخ کرکے اسے حراست میں لینے کا حکم دیا تھا، علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی حاتم عزیز نے پبلک پراسیکیوٹر سید شمیم احمد کی شکایت پر گواہی کیلیے عدالت میں پیش نہ ہونے پر واٹر اینڈ سوریج بورڈ کے افسر محمد طارق، ملازم عابد اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر عزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

دریں اثنا اسی عدالت نے خاتون کے گھر میں نشے کی حالت میں مسلح سے داخل ہوکر زبردستی دست درازی اور تشدد کرنے کے الزام میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر سید افتخار حسین کے مقدمے کو اے کلاس قرار دینے پر برہمی کا اظہار کیا نوٹس جاری کرتے ہوئے ملزم اور مدعیہ مسماۃ عذرا کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔