سندھ ہائیکورٹ قربانی کے جانوروں پر وصول کردہ ٹیکس کی تفصیلات طلب

کنٹریکٹر نے شہر میں لائے جانیوالے جانوروں پر ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا ،درخواست گزار،کے ایم سی اور ٹھیکیدار سےجواب طلب


Staff Reporter October 12, 2012
نادرا کی جانب سے اسلحہ لائسنس جاری اور دہری شہریت کا حلف نامہ غیرآئینی وغیراسلامی قراردینے سے متعلق درخواست پرنوٹس جاری. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے قربانی کے جانوروں پر وصول کردہ ٹیکس کی تفصیلات طلب کرلی ہے۔

فاضل بینچ نے کے ایم سی اورنجی کنٹریکٹرحیدری اینڈ کمپنی کو 15اکتوبرکیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک ٹیکس وصولی کی اجازت دے دی ہے، محمدرشید اور عمردراز کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ بلدیہ ٹائون کے علاقے میں محمد رشید کی اراضی پر درخواست گزار عمردراز نے قربانی کے جانوروںکی خرید وفروخت کا مرکز قائم کیا ہے،کے ایم سی نے ایک اشتہار کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ قربانی کے جانوروں پرکوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا مگر دوسری جانب کے ایم سی نے قربانی کے جانوروں کی فروخت پر ٹیکس وصول کرنے کیلیے ایک نجی کمپنی حیدری اینڈ کمپنی کو ٹھیکہ دے دیا ہے۔

نجی کنٹریکٹر نے شہر میں لائے جانے والے قربانی کے جانوروں پر ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا جو کے ایم سی کے اعلان کی بھی خلاف ورزی ہے ،عدالت عالیہ نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو 15اکتوبر کیلیے نوٹس جاری کردیا ہے،سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی اورجسٹس فاروق علی چنا پرمشتمل دو رکنی بینچ نے دہری شہریت سے متعلق حلف نامے غیر آئینی قرار دینے اور ضمنی الیکشن روکنے کے لیے متفرق درخواست پر فریقین کو 23اکتوبر کیلیے نوٹس جاری کردیے۔

درخواست پروفاقی حکومت کی جانب سے اسٹیڈنگ کونسل دلاورحسین اورصوبائی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے اعتراض کیا ہے کہ یہ وفاقی شرعی عدالت کا معاملہ ہے،تاہم درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 2A اور پی ایل ڈی 1987سپریم کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ کے حوالے دیتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ ہائیکورٹ تمام غیر اسلامی قوانین کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

آئینی درخواست میں وفاق پاکستان ، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئر مین سینیٹ، قائد حزب اختلاف، چیف الیکشن کمشنر ، پاکستان پیپلز پارٹی،مسلم لیگ (ن) ،پاکستان مسلم لیگ (ق)،جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل، آل پاکستان مسلم لیگ و دیگر فریق ہیں،واضح رہے کہ اس سے قبل تمام فریقین کو تین بار نوٹس بھیجے جاچکے ہیں لیکن تاحال کوئی بھی نہیں پیش نہیں ہوا، اب چوتھی بار نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے لیاری گینگ وار(ارشد پپو گروپ) کے سزایافتہ کارندے رستم کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے،فاضل چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ قیدیوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کرنا بھی حکومت کی اہم ذمے داریوں میں سے،سندھ ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دیے گئے نادرا کے تیار کردہ اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر وفاقی سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

محمدایوب و دیگر کی جانب سے دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ کے علاوہ ، مشیر داخلہ عبدالرحمان ملک اور ڈائریکٹر جنرل نادرا کو بھی فریق بنایاگیا ہے تاہم چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نوٹس صرف سیکریٹری داخلہ کو جاری کرنے کی ہدایت کی ہے ، درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے 25جولائی2012کو ایک فیصلے میں نادراکے جاری کردہ اسلحہ لائسنسوں کو غیر قانونی قراردے دیا تھا ، عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں پاکستان آرمز آرڈیننس 1965کی دفعہ 3(!)(d)کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلحہ لائسنس جاری نہیں کرسکتیں،کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس جاری کرتے ہوئے پاکستان آرمز آرڈیننس ایکٹ 1965کی دفعہ9کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔