خوردنی تیل سپلائی کرنیوالے ٹینکرز پر فائرنگ5افراد زخمی

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا نیشنل ہائی وے پر احتجاجی دھرنے سے ٹریفک جام ہوگیا


Staff Reporter October 12, 2012
آئل کی سپلائی کا ٹھیکہ آئل ٹینکرز مالکان کو واپس دیا جائے،ترجمان بختاور خان، فوٹو : فائل

کراچی خوردنی تیل سپلائی کرنیوالے ٹینکرز پر جمعرات کی صبح نیشنل ہائی وے پر فائرنگ کے نتیجے میں5افراد زخمی ہوگئے۔

واقعے کے بعد آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے نیشنل ہائی وے پر 6 گھنٹے سے زائد دھرنا دیا گیا جس کے باعث قومی شاہراہ پر شدید ٹریفک جام رہا، تفصیلات کے مطابق جمعرات کی صبح خوردنی تیل فراہم کرنے والے ٹینکرز پر نیشنل ہائی وے پرفائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں5افراد زخمی ہوئے، فائرنگ کے واقعے کے بعد ایڈایبل آئل ٹینکرز نے نیشنل ہائی وے بلاک کرکے احتجاج کیا۔

نیشنل ہائی وے سے پورٹ قاسم جانے والی شاہراہ پر ایڈایبل آئل ٹینکرز مالکان اور ورکرز نے این ایل سی کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیے، ایسوسی ایشن کے ترجمان بختاور خان نے کہا کہ این ایل سی خوردنی تیل کی سپلائی کا ٹھیکہ نجی ٹھیکیداروں کو دے رہا ہے جس کیخلاف ایسوسی ایشن نے ایک ہفتے سے ہڑتال کررکھی ہے، انھوں نے کہا کہ جمعرات کی صبح نیشنل ہائی وے پر ہمارے ٹینکرز پر فائرنگ کرکے5افراد کو زخمی کردیا گیا جس پر احتجاجاً ٹرانسپورٹرز نے ہائی وے6گھنٹے کیلیے بندکردی، بعدازاں احتجاج پرامن طور پر ختم کردیا گیا۔

انھوں نے مطالبہ کیاکہ ایڈایبل آئل کی سپلائی کا ٹھیکہ آئل ٹینکرز مالکان کو واپس دیا جائے، بختاور خان نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رہے گی، دریں اثنا وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عبدالمجید حاجی محمد کے مطابق گذشتہ پانچ روز سے کراچی میں ٹرمینل سے خوردنی تیل کی سپلائی بند ہے اگر یہ صورتحال زیادہ دن رہی تو کراچی میں خوردنی تیل کی کمی ہوسکتی ہے۔