بنگلہ دیش میں میچ فکسنگ کا ناسور ایک بار پھر سراٹھانے لگا

فرسٹ کلاس نیشنل کرکٹ لیگ کے فائنل پرشکوک، بورڈ تحقیقات کرائے گا


Sports Desk May 15, 2015
پاکستان کیخلاف ہوم سیریز کی وجہ سے انتظار کرنے کو کہا گیا تھا،عبدالرزاق فوٹو: اے ایف پی/فائل

GILGIT: بنگلہ دیش میں میچ فکسنگ کا ناسور ایک بار پھر سر اٹھانے لگا، فرسٹ کلاس ایونٹ نیشنل کرکٹ لیگ کے فائنل پر شکوک ظاہر کیے جا رہے ہیں، کھلنا نے رنگپور ڈویژن کے پہلی مرتبہ چیمپئن بننے کی وجہ کرپشن کو قرار دیدیا، بورڈ کی جانب سے معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی جانب سے متنازع ٹوئنٹی 20 پریمیئر لیگ کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیے ایک ہی دن ہوا تھاکہ فکسنگ کا نیاکیس میڈیا میں آگیا۔ اس بار کوئی ٹی 20 یا ون ڈے نہیں بلکہ فرسٹ کلاس ایونٹ کے فائنل کو ہی فکسڈ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیشنل کرکٹ لیگ میں فائنل راؤنڈ میچ ڈھاکا میٹروپولس اور رنگپور ڈویژن کے درمیان کھیلا گیا تھا۔

رنگپور نے ڈھاکا میٹرو کو آخری لمحات میں 102 رنز سے مات دے کر پہلی بار این سی ایل ٹائٹل پانے کا اعزاز حاصل کیا،اس مرتبہ ٹرافی کے لیے مضبوط امیدوار کھلنا تھا، اگر رنگپور کو شکست یا مقابلہ ڈرا ہوتا تو یہ ٹائٹل کھلنا کے ہی حصے میں آتا، اس لیے میچ فکسنگ کو اس نتیجے کی وجہ قرار دیا گیا،کھلنا نے نہ صرف بی سی بی کی ٹورنامنٹ کمیٹی اور ڈسپلنری کمیٹی سے باقاعدہ شکایت کی، ساتھ میں ثبوت کے طور پر اپنے آفیشلز اور ڈھاکا میٹرو کے کوچ حنان سرکار کے درمیان بات چیت کی ریکارڈنگ بھی پیش کردی ہے، یہ میچ مارچ میں کھیلا گیا تھا۔

سیکنڈ لاسٹ اوور اور کھیل ختم ہونے سے چار منٹ قبل امپائرز نے محمود الحسن کی گیند پر آصف حسن کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل آفیشلز نے ایک گھنٹے کے لیے کھیل کا وقت بڑھا بھی دیا تھا، اس وقت بھی حیرانی ظاہر کی گئی تھی کیونکہ اس کا صریحاً فائدہ رنگپور کو ہوتا جسے چیمپئن بننے کے لیے کھلنا پر ایک پوائنٹ کی برتری درکار تھی۔

کھلنا کے کپتان عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ ہم نے اس بارے میں اپنی شکایت اور شواہد بورڈ کے پاس جمع کرا دیے تھے لیکن پاکستان کیخلاف ہوم سیریز کی وجہ سے ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا، اب ہم اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کے منتظر ہیں۔ ٹورنامنٹ کمیٹی کے چیئرمین اکرم خان کا کہنا ہے کہ ہم مبینہ شواہد ڈسپلنری پینل کے پاس مزید تحقیقات کے لیے بھیج رہے ہیں۔ دوسری جانب اینٹی کرپشن یونٹ کے نئے سربراہ سابق ملٹری آفیسر ابو محمد ہمایوں مرشد کا کہنا ہے کہ اب تک ہم سے تحقیقات کے لیے نہیں کہا گیا، جیسے ہی ہدایات موصول ہوئیں کام شروع کردیں گے۔