کیوی پلیئرز نے ڈے نائٹ ٹیسٹ کی مخالفت کردی

ہمارے پلیئرز رواں سال دورہ آسٹریلیا میں مجوزہ نائٹ ٹیسٹ کے حق میں نہیں ہیں، پلیئرز ایسوسی ایشن


Sports Desk May 15, 2015
ہمارے پلیئرز رواں سال دورہ آسٹریلیا میں مجوزہ نائٹ ٹیسٹ کے حق میں نہیں ہیں، پلیئرز ایسوسی ایشن فوٹو : فائل

کیوی پلیئرز نے ڈے نائٹ ٹیسٹ کی مخالفت کر دی، پلیئرز ایسوسی ایشن کاکہنا ہے کہ ہمارے پلیئرز رواں سال دورہ آسٹریلیا میں مجوزہ نائٹ ٹیسٹ کے حق میں نہیں ہیں،انھیں خدشہ ہے کہ اس سے کھیل کی اہمیت کم ہوجائے گی۔

میزبان سے سیریز ایشز سے کسی صورت کم نہیں ہے،اس لیے ہم روایتی انداز میں ہی انعقاد چاہتے ہیں۔ پلیئرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو ہیتھ ملز نے ایک انٹرویو میں کہاکہ گلابی گیند کا استعمال کرتے ہوئے مصنوعی روشنیوں میں ڈے نائٹ کرکٹ کا خیال کرکٹ آسٹریلیا نے پیش کیا،اب وہ یہی انداز پانچ روزہ میچز میں اپنانا چاہتے ہیں تاکہ پرائم ٹائم میں ٹی وی ناظرین کھیل سے محظوظ ہوسکیں۔ یاد رہے کہ کرکٹ آسٹریلیا نے نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں پہلے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کو مدنظر رکھتے ہوئے آزمائشی طور پر شیفلڈ شیلڈ کے سیزن میں ایک فرسٹ کلاس اس انداز میں منعقد کرایا تھا۔ اس حوالے سے ہیتھ ملز نے کہاکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اس خیال کے بارے میں شک کا اظہار کرتی ہے۔

چند ماہ قبل ہمیں بورڈکی جانب سے اس بارے میں کھلاڑیوں کے خیالات جاننے کا کہا گیا تھا، ہمارے سروے کے مطابق یہ نتائج سامنے آئے کہ پلیئرزکی بڑی تعداد ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلنے کے حق میں نہیں ہے۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ دورہ آسٹریلیا میں تین ٹیسٹ کی سیریز کھیلے گا،ایڈیلیڈ5 روزہ ڈے نائٹ میچ کی میزبانی کے لیے فیورٹ ہے۔ ملز نے کہاکہ کیوی کرکٹرز آسٹریلیا سے سیریز کو بہت اہم تصور کرتے اور اسے روایتی انداز میں کھیلنے کے خواہشمند ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ مقابلے ہمارے لیے کسی طرح بھی ایشز سے کم نہیں کیونکہ کینگروز سے محدود تعداد میں میچزکھیلنے کا ہی موقع میسر آتا ہے، یاد رہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے مابین آخری ٹیسٹ سیریز 2011-12 میں کھیلی گئی تھی۔

چار سال بعد آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے کا کیوی پلیئرز کے لیے یہ نادرموقع ہے، ملز نے کہا کہ کچھ کھلاڑیوں کے نزدیک یہ کیریئر کی اہم ترین سیریز ہے، وہ ایسا کچھ نہیں چاہتے جس سے اس کی اہمیت کم ہوجائے، وہ برقی روشنیوں میں گلابی گیند کے ساتھ کھیلنے سے مکمل طور پر واقفیت نہیں رکھتے، جب اس حوالے سے سوچیں تو یہ ایک نمائشی میچ محسوس ہوتا ہے۔

انھوں نے کہاکہ نیوزی لینڈ کو آسٹریلوی کھلاڑیوں سے بھی گلابی گیند کے بارے میں منفی آرا ملی ہیں،یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ تجربہ آئی سی سی کے بجائے کرکٹ آسٹریلیا کرنا چاہتا ہے، اگر ہم ٹیسٹ کرکٹ کی مقبولیت کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں تو کونسل کو چاہیے کہ وہ مجموعی آرا طلب کرے، ملز نے کہاکہ اگر کرکٹ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ یہ ڈے نائٹ ٹیسٹ کرانے پر رضامند ہوجاتے ہیں تو کھلاڑی اپنے تحفظات سے قطع نظر اس میں حصہ لیں گے۔