نئے بلدیاتی نظام کی حمایت اہم پیش رفت

بدقسمتی سے کسی بھی جمہوری عہد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور اس نظام کی مستقلی کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا


Editorial October 16, 2012
وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ بل کے مخالفین سندھ کے قوم پرستوں کو(ن)لیگ کی سرپرستی حاصل ہے جنھیں سندھ کے عوام نے مستردکردیا ہے۔ فوٹو: فائل

حیدرآباد میں نئے بلدیاتی نظام کے حق میں پیپلزپارٹی کے جلسہ عام میں سندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 ء کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ بل کے مخالفین سندھ کے قوم پرستوں کو(ن)لیگ کی سرپرستی حاصل ہے جنھیں سندھ کے عوام نے مستردکردیا ہے۔ جلسہ عام میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ نیا بلدیاتی قانون سندھ کے عوام کے مفاد میں ہے ۔ جلسے کے شرکاء نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت اور تدبر کو خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مٹھی بھر جمہوریت دشمن عناصر سندھ کے باشعور عوام کو گمراہ کرسکتے ہیں نہ ورغلا سکتے ہیں۔

سندھ کی پیچیدہ داخلی سیاسی صورتحال میں پیر کا جلسہ جو حیدرآباد، لطیف آباد کی تاریخ کا ایک بڑا جلسہ قرار دیا گیا ہے جمہوری رویوں کا ایک خوش آیند جھونکا ہے جس میں قوم پرست سیاست دانوں کو باور کرایا گیا کہ وہ آرڈیننس کی مخالفت برائے مخالفت کے بجائے ایوان کے اندر پارلیمانی روایات کے تحت ترامیم پیش کریں جب کہ وزیراعلیٰ سندھ کچھ روز قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ بل کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ۔اس لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ قوم پرست سیاسی رہنما اور بل سے اختلاف رکھنے والی جماعتیں دوطرفہ بات چیت اور غیر جذباتی مکالمے کے ذریعہ اس حساس مسئلے کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بلدیاتی نظام پر اتفاق رائے نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک میں بے پناہ اور گمبھیر عوامی مسائل کے حل کے اصولی موقف سے جڑا ہوا ہے ۔

بدقسمتی سے کسی بھی جمہوری عہد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور اس نظام کی مستقلی کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور کریڈٹ آمرانہ حکومتوں کو جاتا رہا کہ بلدیاتی انتخابات ہمیشہ غیر جمہوری عناصر ہی کی اولین ترجیح رہے ہیں ۔اب جب کہ ملکی حالات کروٹ لے رہے ہیں، حتیٰ کہ پیر کومقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوج سرحدوں کی حفاظت کرے اور ملکی معاملات منتخب حکومت چلائے۔ کسی کو اس بات سے انکار بھی نہیں ہوسکتا کہ جمہوری عمل کے باعث عدم مداخلت کا تصور اب جاکرحقیقت میں بدل رہا ہے اس لیے سیاست دانوں کو بھی اب اپنے طرز عمل کو جمہوریت کی مسلمہ اقدار سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔

دریدہ دہنی کی جگہ نرم خوئی کو لینی چاہیے۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جلسہ میں کہا کہ ملک میں عوام کو کبھی بھی ایسے اختیارات نہیں تھے کہ وہ بلدیاتی نظام کے تحت حکومت چلا سکیں ہم نے وہ حقوق صوبوں کو دے دیے کہ وہ اپنا بلدیاتی نظام خود بنائیں ہم نے صوبائی خود مختاری دی،انھوں نے قوم پرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت پسند جماعت ہے جو مفاہمت کی سیاست اور جمہوریت کے ذریعے تبدیلی لانا چاہتی ہے ہم کسی کو یہ حق نہیں دیں گے کہ وہ بندوق کے ذریعے اپنی رائے قوم پر مسلط کرے۔

انھوں نے کہا کہ وہ قوم پرستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی رائے کے اظہار کے لیے بات چیت اور اسمبلی کا راستہ اختیار کریں ۔ایک قرارداد میں صدر پاکستان و شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور وزیر اعلی سندھ و پی پی پی سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ کی قیادت پرمکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا اور ان کے تمام فیصلوں اور اقدامات کی تائید کی گئی، شہید ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن اور ان کے فکر و فلسفے کے مطابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے ملکی تعمیر اور ترقی کے لیے اقدامات، 18 ویں ترمیم کے ذریعے اپنے تمام اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کرنے، صوبائی خودمختاری دینے، این ایف سی ایوارڈ کے اجرا، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات، ملک کی دفاعی و خارجہ پالیسی کو بہترین انداز میں چلانے کے اقدامات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

گذشتہ ہفتے خیرپور میں پی پی پی کی ایم این اے نفیسہ شاہ کے جلسے میں فائرنگ کر کے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو شہید کرنے،اور اراکین اسمبلی کی رہائش گاہوں پردستی بموں کے حملوں کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور اسے کھلی دہشت گردی قرار دیا گیا۔ جلسہ میں ملالہ یوسف زئی، اور ان کی دو ساتھی طالبات شازیہ و کائنات پر دہشتگردوں کے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی ہر بیٹی اور شہری پر حملہ تصور کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ہم عوام کی طاقت سے سندھ کو طاقت ور بنانا چاہتے ہیں، انشاء اللہ آیندہ دو تین سال میں سندھ میں کوئی بے روزگار نہیں ہوگا۔

بلدیاتی نظام میں سندھ کو تقسیم کرنے کی کوئی بات نہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کے عوام نے جلسے میں لاکھوں کی تعداد میں پہنچ کر بعض افراد کے منفی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دے دیا ہے ۔ کراچی ڈویژن کے صدر رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا وہ کراچی میں شہید کیے جانے والے 350 کارکنان کے والدین، بہنوں اور بھائیوں کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو حاضر حاضر لہو ہمارا کے نعروں کے ساتھ جلسہ گاہ پہنچے ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل ممین نے کہا کہ نام نہاد قوم پرست صدر کے خلاف باتیں کرتے ہیں کیونکہ ان کی ڈوریاں تخت لاہور اور رائے ونڈ سے ہلتی ہیں۔

بلاشبہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی اولین بنیادوں میں سے ایک اہم عنصر ہے، یہ نرسری ہے جہاں سے نئی نسل کے عوامی نمایندے منتخب ہوکر آتے ہیں اور عوام کی خدمت اور قانون سازی کے نازک معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی تربیت پاتے ہیں۔آج کی انارکی کی ایک وجہ بلدیاتی نظام کی شکست وریخت ہے ، عوام ریلیف سے محروم اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں،سیاست لفاظی،بڑھکوں اور الزام تراشیوں کے شور میں دب گئی ہے۔

پورا ملک دہشت گردی اور قتل وغارتگری کی لپیٹ میں ہے ،یہ چشم کشا اور لرزہ خیز حقائق قومی ضمیر پر تازیانے سے کم نہیں؟جمہوریت بلاشبہ ایک نعمت ہے، عوامی اور سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے،اس کی قدر کرنی چاہیے اور ان عناصر کے خلاف جو جمہوری اقدار اور نظام کی تباہی پر کمر بستہ ہیں ان کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے جب کہ جمہوری نظام کی حفاظت اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب سیاست دان بین الاقوامی ، قومی اورمقامی مسائل و حساس امور پر اتفاق رائے کو اہمیت دیں اور رواداری ،صبروتحمل اور دور اندیشی پر مبنی فیصلوں کے کلچر کی آبیاری کریں ،ان کے سیاسی رویے ہی قومی کردار کی بنیاد کا پہلا پتھر ہوتے ہیں،سیاست دانوں سے قوم کوجو صحت مند سیاسی کلچر ملے گا وہ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے جس کا روز تماشا عوام دیکھتے ہیں۔

یہ اندوہ ناک صورتحال عوام کو جمہوریت کے حقیقی ثمرات نصیب ہونے پر ہی ختم ہوگی، چنانچہ ان سنگلاخ حقائق اور عاجزانہ معروضات کی روشنی میں معتدل سیاسی ماحول کی تشکیل اور یکساں بلدیاتی نظام کے قیام کی کوششیں جمہوری عمل کے لیے ایک مہمیز سے کم نہیں مگر اس سمت میں پیش قدمی سے پہلے عمومی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا جلسہ سندھ کے سیاسی حلقوں میں ایک متوازن پیغام دینے میں از حد کامیاب رہا ہے اورکراچی سمیت سندھ کے دور درازشہروں اور دیہات میں بلدیاتی نظام کے نفاذ سے پیدا شدہ صورتحال میں بہتری کا نقیب ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے مفاہمت کی سیاست کو جس مثبت انداز میں فروغ دینے کا عزم کررکھا ہے اتحادی اور دیگر سیاسی جماعتیں اس کا مثبت انداز میں جواب دیں گی تو سندھ سمیت ملک کا سیاسی منظر نامہ حیران کن طریقے سے بدل سکتا ہے۔