لیڈی ہیلتھ ورکرزکا احتجاج رنگ لے آیا تنخواہوں کی سمری منظور

منگل کو سندھ اسمبلی کے گیٹ کے سامنے جمع ہونے کی کوشش پر پولیس اہلکاروں سے جھڑپ میں4خواتین بے ہوش ہوگئیں


Staff Reporter August 12, 2015
سندھ اسمبلی کے باہر تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر مظاہرہ کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکر بیہوش پڑی ہے ۔ فوٹو : آن لائن

لیڈی ہیلتھ ورکرز کااحتجاج رنگ لے آیا، سندھ اسمبلی کے سامنے دوسرے روز بھی احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں سے جھڑپ میں 4 خواتین بے ہوش ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں 4 ماہ سے بغیر تنخواہ کے کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز منگل کواپنے مطالبات کے حق میں سندھ ہائیکورٹ پہنچیں ،بعدازاں خواتین احتجاج ریکارڈ کرانے کیلیے سندھ اسمبلی آگئیں، پولیس کی بھاری نفری نے انھیں روکنے کی کوشش کی،لیڈی ہیلتھ ورکرزسندھ اسمبلی کی عمارت کے قریب پہنچ گئیں۔

پولیس اہلکاروں نے انھیں اسمبلی کے گیٹ کے سامنے جمع ہونے سے روکا ،اسی اثنا میں جھڑپ ہوئی جس میں 4 خواتین بیہوش ہوگئیں جنھیں فوری طبی امداد کیلیے قریبی اسپتال لے جایا گیا، سینئر وزیر نثار احمدکھوڑو اور وزیر صحت جام مہتاب حسین ڈاہر نے احتجاج کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرزسے مذاکرات کیے اور یقین دہانی کرائی کہ انھیں حکومت سندھ میں ضم کرکے مستقل کیا جائے گا،مستقل بنیادوں پر تنخواہیں دی جائیں گی۔

وزیر صحت نے لیڈی ہیلتھ ورکرزکو اس سمری کی کاپی بھی دکھائی جو وزیر اعلیٰ سندھ نے منظورکی،سمری میں لیڈی ہیلتھ ورکرزکی تنخواہوں کے لیے اسپیشل گرانٹ کی منظوری دی گئی، دریں اثنا لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے بتایا کہ حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کررہی ہے ،محکمہ صحت میں ملازمت کے باوجود گزشتہ 4ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی، سخت دھوپ اورگرمی میں ہم اپنے فرائض اداکرتے ہیں لیکن حکومت وعدے کے باوجود اپنے وعدے پورے نہیں کررہی ہے۔

قبل ازیں سندھ اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وزیر صحت جام مہتاب حسین ڈاہر نے کہا ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو باقاعدگی سے تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے اسپیشل گرانٹ کی سمری منظورکرلی ہے،حکومت سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرزکے تمام مطالبات بھی پورے کرے گی ،انھوں نے یہ بات منگل کو اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کے نکتہ اعتراض پر کہی ،خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت سندھ نے معذور افراد کے احتجاج کا نوٹس لیا ہے ۔

حکومت ان معذور افراد کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے ،ان کے علاوہ لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی گرمی میں احتجاج کررہی ہیں ۔وہ ہماری مائیں بہنیں ہیں ۔حکومت ان کے مطالبات پر بھی غور کرے ،وزیر صحت نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کا معاہدہ وفاقی حکومت کے ساتھ تھا ،وفاقی حکومت کے ساتھ جب لیڈی ہیلتھ ورکرز کا معاہدہ ختم ہوجائے گا تو سندھ حکومت انھیں ضم کرے گی،محکمہ صحت پہلے ہی اقدامات کررہا ہے۔