صدر کا چین کے ساتھ اشتراک مضبوط بنانے پر زور

صدر پاکستان نے پاک چین دوستی کو خطے میں امن و استحکام کا ایک عنصر قرار دیا


Editorial October 18, 2012
صدر زرداری نے کہا کہ چین ترقی پذیر ممالک کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے۔ بلاشبہ عوامی جمہوریہ چین پاکستان کا آزمودہ دوست اور اتحادی ہے۔ فوٹو: فائل

LARKANA: صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک چین دو طرفہ تجارت' سرمایہ کاری اور دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچانے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کی آزمودہ دوستی پہلے ہی ایک جامع اسٹرٹیجک شراکت داری میں بدل گئی ہے۔

صدر نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی شعبے کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن لی چنگ چن کے ساتھ ملاقات کے موقع پر کیا۔ مسٹر لی نے صدر پاکستان کے ساتھ وفود کے ساتھ ملاقات کے علاوہ ون آن ون ملاقات بھی کی۔ صدر زرداری نے کہا کہ چین ترقی پذیر ممالک کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے۔ بلاشبہ عوامی جمہوریہ چین پاکستان کا آزمودہ دوست اور اتحادی ہے۔ چینی لیڈر مسٹر لی نے اس امر کااعادہ یہ کہہ کر کیا ہے کہ عالمی اور علاقائی سطح پر تبدیلیوں سے قطع نظر پاک چین دوستی نہ صرف جاری رہے گی بلکہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جائے گی۔

مسٹر لی نے مزید بتایا کہ وہ چینی قیادت کی طرف سے پیغام لے کر آئے ہیں کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اسٹرٹیجک اور طویل المیعاد نکتہ نظر سے دیکھتا ہے۔ چین انتہا پسندی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان کو اس وقت جن خطرات کا سامنا ہے، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے چین کا ساتھ انتہائی ضروری ہے۔دہشت گردی کا جہاں پاکستان کو سامنا ہے، وہاں چین بھی اس کا شکار ہے۔ دونوں ملکوں کو اس لعنت سے چھٹکارا پانے کے لیے بھی ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے ۔

اسی تناظر میں صدر پاکستان نے پاک چین دوستی کو خطے میں امن و استحکام کا ایک عنصر قرار دیا اور کہا کہ علاقائی اور عالمی محاذوں پر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت چین کی کمپنیاں پاکستان میں کئی شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ شمسی اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے والی کمپنیوں بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاک چین دوستی کو سب سے بلند پہاڑوں سے بھی بلند اور سب سے گہرے سمندروں سے بھی زیادہ گہری قرار دیا جاتا ہے جس کا اعتراف چین کی طرف سے بھی کیا جاتا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما کا حالیہ دورہ اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ایک خاص پیغام لے کر آئے تھے۔

اگرچہ صدارتی ترجمان نے اس بیان پر روشنی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تاہم علاقائی صورتحال پر گہری نگاہ رکھنے والوں کے لیے اس پیغام کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہو گا البتہ انھوں نے متبادل توانائی پر کام کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا جو پیغام دیا ہے ہماری حکومت کو اس کا جلد اور مثبت جواب دینا چاہیے۔