پاکستان کیساتھ زمینی راستوں سے تجارت بڑھانا چاہتے ہیں بھارت

کھوکھرا پارمونا بائوسرحدسے تجارت اور انڈین ایئرلائنزکے آپریشنزپرورکنگ گروپ کے مذاکرات جلدمتوقع ہیں، ہائی کمشنر


Business Reporter October 19, 2012
پاکستان کاپانی چوری نہیں کیا، ویزامعاملہ بھارت کی طرف سے حل ہوچکا، اپریل تک ٹیرف لائنز 100 تک محدود کردینگے، شرت سبھروال، کراچی چیمبرسے خطاب فوٹو : محمد عظیم / ایکسپریس

بھارتی ہائی کمشنرشرت سبھروال نے کہا ہے کہ بھارت نے نہ کبھی پاکستان کا پانی چوری کیا ہے اور نہ آئندہ پانی چوری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

پانی کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان 50 سال قبل سندھ طاس معاہدہ طے ہوا تھا جس پر بھارت عمل درآمد کررہا ہے، پانی کے مسئلے پر پاکستان کو جوتحفظات لاحق ہیں۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو کراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروںو صنعتکاروں سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی۔ ویزے میں نرمی کے حوالے سے بھارتی ہائی کمشنر نے بتایا کہ بھارت کی طرف سے یہ معاملہ طے ہوگیا ہے تاہم پاکستان کی جانب سے یہاں کی کابینہ سے اس ضمن میں تصدیق کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت سارک ریجن کے دوبڑے ممالک ہیں اور دونوں ممالک کا جی ڈی پی 2000 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

جبکہ مشترکہ آبادی 1.5 ارب کی ہے لیکن اس کے باوجود جنوبی ایشیا کے خطے میں باہمی تجارت صرف5 فیصد تک محدود ہے، اس کے برعکس یورپی یونین ریجن میں باہمی تجارت65 فیصد جبکہ آسیان ریجن میں25 فیصد ہے، پاک بھارت مذاکراتی تناظر میں سارک بلاک میں نئی تجارتی راہیں ہموار ہوں گی۔ دوطرفہ پیش رفت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے بینک جلد دوطرفہ بنیادوں پر اپنی اپنی شاخیں قائم کردیں گے، بھارت حکومت نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھارت سرمایہ کاری بورڈ کے توسط سے سرمایہ کاری کی اجازت دیدی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کھوکھرا پار مونا بائو سرحد سے تجارت کے آغازکے علاوہ انڈین ایئرلائنز کے آپریشنز شروع کرنے کے سلسلے میں پاک بھارت جوائنٹ ورکنگ گروپ کے درمیان مذاکراتی عمل جلد متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے جانے کے بعد اپریل2013 تک بھارت ٹیرف لائنز میں مزیدکمی کرتے ہوئے100 ٹیرف لائنز تک لے آئے گا جبکہ پاکستان بھی اپنی حساس فہرست میں آئندہ 5سال کے دوران ٹیرف لائنز کم کرتے ہوئے 100 ٹیرف لائنز کی سطح پر لائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سمندری راستے سے تجارتی سرگرمیوں کو کم کرتے ہوئے زمینی راستوں ریل اور سڑک کے ذریعے باہمی تجارت کو وسعت دینے کی ضرورت ہے، بین الاقوامی تجارت میں پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔ بھارتی ہائی کمشنر نے اس امر کا اعتراف کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ دونوں ملکوں کی تجارتی پابندیاں ہیں جنہیں کم کرنے کیلیے دوطرفہ بنیادوں پر مذاکرات جاری ہیں، بھارت تمام معاملات پاکستان کے ساتھ پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے اور مذاکرات کے اس دور میں بھارت کی اولین ترجیح تجارت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں اور نجی شعبہ دوطرفہ تجارت بڑھانے کے حق میں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی تاجروں کے نان ٹیرف رکاٹوں سے متعلق اعتراضات دور کرنے کیلیے کسٹمز، ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور دیگر ریگولیٹرز کے ساتھ دو سیشنز کیے جاچکے ہیں، کسٹم کی سطح پر تعاون ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی تصدیق اور تجارتی تنازعات کو حل کرنے کیلیے دونوں ممالک کی وزارت تجارت کے درمیان میکنزم قائم کرنے کا معاہدہ بھی طے پاگیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم منموہن نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کی ہوئی ہے لیکن دورے کے وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔اس موقع پر کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر محمدہارون اگر،چیئرمین بی ایم جی سراج قاسم تیلی، چیمبر کے سینئرنائب صدر شمیم فرپو، نائب صدرناصر محموداورمجید عزیزنے بھی خطاب کیا۔