آج پی پی کو رینجرز اقدامات حملہ کیوں نظر آرہے ہیںالطاف حسین

میں نے کبھی نہیں کہا  فوج سے جنگ ہوگی، کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت قابل مذمت ہے


Staff Reporter August 29, 2015
 عامر خان کو رابطہ کمیٹی میں شامل کر لیا گیا،الطاف حسین نے فیصلے کی توثیق کردی فوٹو: فائل

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ آج پی پی پی کے رہنماؤں کو رینجرز کے اقدامات سندھ پر حملہ نظر آرہے ہیں لیکن کل یہی پیپلزپارٹی تھی جس نے جولائی میں رینجرز کے سندھ میں قیام میں توسیع کی تھی اور اسے پولیس کے اختیارات دینے کے فیصلہ میں توسیع کی تھی، میں نے اپنی کسی تقریر میں کبھی نہیں کہا کہ فوج سے جنگ ہوگی، یہ ہماری اپنی فوج ہے، ہم اس کیلئے جان دینے کاجذبہ رکھتے ہیں جان لینے کا نہیں۔

لندن سے نائن زیرو پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جب نائن زیروپرچھاپے مارے جائیں تواسے جائز قراردیاجائے لیکن جب پی پی پی کے کسی رہنما کو گرفتار کیاجائے تو اس کو سندھ پر حملہ قراردیاجائے اور جنگ کی بات کی جائے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے درخواست ہے کہ وہ ملکی سلامتی واستحکام کے واسطے جیلوں خصوصا کراچی کی جیلوں کادرہ کریں اوروہاں قیدایم کیوایم کے اسیروں سے فردا فردا ملاقات کریں اوران سے پوچھیں کہ انھیں پولیس یارینجرزنے کیوں گرفتارکیاتھا۔

الطاف حسین نے کنٹرول لائن پر مسلسل بھارتی جارحیت کی سکت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے ، انھوں نے اقوام متحدہ سے بھی بھارتی جارحیت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا،دریں اثنا ایم کیو ایم کے سینئر رکن عامر خان کو رابطہ کمیٹی میں شامل کر لیا گیا، الطاف حسین نے فیصلے کی توثیق کردی۔