جمہوریت اور آئین کی حکمرانی

مارشل لا کے نفاذ میں سیاستدانوں کی غلطیوں، کوتاہیوں اور مفاد پرستی نے بھی ہم کردار ادا کیا۔


Editorial October 19, 2012
مارشل لا کے نفاذ میں سیاستدانوں کی غلطیوں، کوتاہیوں اور مفاد پرستی نے بھی ہم کردار ادا کیا۔ فوٹو اے ایف پی

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔

جمہوریت کی بساط لپٹی تو دوسرا وار عدلیہ پر ہو گا۔ ہم نے جمہوریت کی منزل بڑی قربانیاں دے کر حاصل کی ہے، ہم اسے کھونا نہیں چاہتے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اداروں کے درمیان کوئی تصادم نہیں' پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے' فوج کا اپنا نظام ہے' پارلیمنٹ کا اپنا سسٹم ہے' ہمیں الگ الگ جزیرے بنا کر نہیں رہنا چاہیے' ہر ادارے کا تقدس ہے' انھیں اپنے دائرہ میں رہ کر ملک کے لیے کام کرنا چاہیے۔ تمام ادارے بشمول پارلیمنٹ' سپریم کورٹ' حکومت اور مسلح افواج پاکستان کے ادارے ہیں اور ملک صرف اسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے اور خوشحال ہو سکتا ہے کہ جب یہ تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ میں رہ کر کام کریں۔

انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک کے اصل دشمن انتہا پسند اور دہشت گرد ہیں جو لوگوں کی جان سے کھیل رہے ہیں۔ دہشت گردوں کی جانب سے لوگوں کو غیر مسلم قرار دینا یا انھیں دوزخ اور جنت بھجوانے کے فتوے دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ ہم نے مل کر اس لعنت سے نمٹنا ہے اور اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہے۔

وزیراعظم کا ملک کے سینئر وکلاء سے یہ خطاب خاصی اہمیت کا امل ہے۔ انھوں نے جن نکات کی نشاندہی کی ہے' ان کی سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جمہوریت پسندوں کے لیے کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر جمہوری قوتوں اور دہشت گردوں سے متحد ہو کر مقابلہ کریں' اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ آمریت جب بھی جمہوریت کی بساط لپیٹتی ہے تو اس کے ساتھ ہی عدلیہ بھی اس کا نشانہ بنتی ہے۔ یوں جمہوریت اور عدلیہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں' یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کسی ملک میں جمہوریت نہیں ہو گی تو آزاد عدلیہ بھی وجود کھو دے گی' آمریت کوئی ایسا ادارہ برداشت نہیں کرتی جو اس کے لیے چیلنج بنے۔

پاکستان میں آمریت کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جب بھی آمریت مسلط ہوئی' اس نے عدلیہ کو زیر نگیں کیا اور پھر اس سے اپنی مرضی کے فیصلے لیے۔ ایوب خان کا مارشل لا ہو یا یحییٰ خان کا اقتدار' ان کی منظوری عدلیہ نے ہی دی' اس کے بعد ضیاء الحق نے جب ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹا تو نصرت بھٹو کیس میں اس وقت کی عدالت عظمیٰ نے ہی اس مارشل لا کو آئینی حیثیت دی تھی۔ اس فیصلے کے مرہون منت ضیاء الحق گیارہ برس تک اقتدار میں رہے' ضیاء الحق کی آمریت کی بعد کچھ مدت کے لیے جمہوری دور رہا لیکن 12 اکتوبر 1999کو جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

اس غیر جمہوری اور آمرانہ اقدام کو بھی سپریم کورٹ نے ہی آئینی لبادہ پہنا دیا' اس کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف 9 برس تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے' یہ پاکستان کی مختصر سی تاریخ کے تلخ حقائق ہیں اور ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا' ان آمرانہ دور کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ آمروں نے جمہوریت پر شب خون اس وقت مارا جب ملک کے سیاستدان ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو گئے اور وہ سیاسی اختلافات سے نکل کر ذاتی تنازعات میں الجھ گئے۔ ایوب خان اور یحییٰ خان کے ادوار کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے اقدامات پر ہی غور کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ سیاستدان اپنے معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے میں ناکام ہو گئے تھے۔

مارشل لا کے نفاذ میں سیاستدانوں کی غلطیوں، کوتاہیوں اور مفاد پرستی نے بھی ہم کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد نے جو میدان سجایا' اس کا لازمی نتیجہ مارشل لا کی صورت میں ہی نکلنا تھا اور اس حقیقت کا قومی اتحاد کے رہنمائوں کو بھی بخوبی علم تھا لیکن قومی اتحاد کے رہنمائوں نے ہوش مندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اور گھیراؤ جلاؤ کو ہوا دی۔ ادھر ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے ساتھی بھی معاملات کی سنگینی کا ادراک کرنے میں ناکام رہے اور انھیں ہوش اس وقت آیا جب آمریت کا اسٹیج تیار ہو گیا تھا' یوں دونوں سیاسی فریقوں نے غلطیوں پر غلطی کا سلسلہ جاری رکھا۔ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے سے پہلے کے دور پر بھی نظر دوڑائیں تو جمہوریت کے علمبرداروں کا کردار قابل رشک نظر نہیں آتا۔

اگر اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنما اپنی لڑائی کو ایک حد سے آگے نہ بڑھاتے تو آمریت کبھی اپنا وار نہ کر سکتی۔ ان حقائق کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جمہوریت کو بچانا' ان قوتوں نے ہے جن کا مفاد یا بقا اس نظام سے وابستہ ہے' آمریت کو اگر نصیحت کریں کہ وہ اقتدار میں نہ آئے تو ایسا نہیں ہوتا' آمریت کو پنجرے میں قید اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب جمہوری لیڈر جاہ پسندی کا مظاہرہ نہ کریں' اپنی حدود کو پہچانے اور اپنے فرائض کا ادراک کریں۔ عدلیہ نے 2007ء کے بعد جو کردار ادا کیا ہے' وہ بے مثال ہے' عدلیہ کے بعض فیصلوں پر نکتہ چینی کی گنجائش موجود ہے لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ اعلیٰ عدلیہ نے طاقتوروں کو آئینی حدود میں رکھنے کے لیے جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ جمہوریت کا نظام پارلیمنٹ، حکومت اور اداروں سے چلتا ہے اور یہ سب ادارے آئین کے تحت کام کرتے ہیں۔ جمہوری نظام آمریت کی ضد ہے' اس میں سپریم آئین و قانون ہوتا ہے' سب کو اس کے سامنے جھکنا پڑتا ہے۔ آئین کی سربلندی کے لیے' پارلیمنٹ' عدلیہ اور سیاستدانوں کے درمیان ایسا رابطہ ہونا چاہیے جو آئین سے ہو کر آتا ہے اور واپس وہیں جا کر ختم ہو جاتا ہے۔