لڑکیوں کی تعلیم میں پاکستان کا مقام

پاکستان میں اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد بھارت اور نیپال کی نسبت آدھی سے بھی کم ہے، یونیسکو رپورٹ


Editorial October 19, 2012
پاکستان میں اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد بھارت اور نیپال کی نسبت آدھی سے بھی کم ہے، یونیسکو رپورٹ فوٹو: رائٹرز

SWAT: اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکوکی ایک رپورٹ میں اعداد و شمار کی روشنی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد بھارت اور نیپال کی نسبت آدھی سے بھی کم ہے جب کہ بنگلہ دیش کے مقابلے میں یہ تعداد بمشکل ایک چوتھائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول نہ جانے والی لڑکیوں کی تعداد دنیا بھر میں غالباً سب سے زیادہ نہیں تو شاید کسی ایک آدھ پسماندہ ملک سے قدرے کم ہو گی لیکن اس کے باوجود آفرین ہے پاکستان کے ارباب اختیار و صاحبان اقتدار پر کہ انھوں نے وفاقی بجٹ میں تعلیم کے لیے رقم میں مزید کمی کر دی ہے حالانکہ پہلے بھی وطن عزیز کے حکمران تعلیم پر جی ڈی پی کی 2.3 فیصد سے بھی کم رقم خرچ کرتے رہے ہیں۔ اور جہاں تک لڑکیوں کی تعلیم کا تعلق ہے تو اس میدان میں پاکستان پورے جنوبی ایشیاء کے ممالک میں سب سے نچلے مقام پر کھڑا ہے۔

رپورٹ میں ان وجوہات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جن کی بنا پر پسماندہ ممالک میں تعلیم کی اہمیت پر اس قدر کم توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان میں جو بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ان میں دو تہائی تعداد لڑکیوں کی ہے۔ پاکستان میں اسکول نہ بھیجے جانے والے بچوں کی تعداد 50لاکھ سے زاید بیان کی گئی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قسم کے بنیادی اہمیت کے اعداد شمار بھی ہمیں دساور سے درآمد کرنے پڑتے ہیں کہ وطن میں ڈیموگرافی پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ پاکستان میں اسکول کی تعلیم کی استطاعت نہ رکھنے والی غریب لڑکیوں کی شرح 78 فیصد تھی جس میں اب قدرے کمی ہوئی ہے اور یہ شرح 62 فیصد تک گر گئی ہے۔ بھارت میں یہ شرح 66 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد پر آ گئی ہے، نیپال میں 52 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ شرح 91 فیصد سے کم ہو کر 44 فیصد پر آ گئی ہے۔

رپورٹ میں یونیسکو کی ڈائریکٹر پالین روز کے حوالے سے انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ 1999ء میں دنیا بھر کے ممالک کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ملک کے تمام بچوں کو اسکول بھیجیں لیکن پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس ضمن میں کسی قسم کی کوئی پیشرفت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ امت مسلمہ کے لیے سب سے پہلا سماوی حکم تھا ''اقرا'' یعنی پڑھو۔یہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان اسلام کے نام قائم ہوا اور یہاں کے حکمرانوں نے اس ملک کے بچو ں خصوصاً بچیوں کی تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی۔یونیسکو کی رپورٹ حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔