پاکستانی فٹبال تنازع جگ ہنسائی کا باعث بننے لگا

فیصل صالح حیات گروپ کی جانب سے اے ایف سی کو لکھا گیا خط منظرعام پر آگیا


Sports Reporter September 04, 2015
فیفا اور ایشین فٹبال ارکان پر دورئہ پاکستان میں نامناسب رویہ اختیار کرنے کا الزام فوٹو: فائل

پاکستانی فٹبال تنازع جگ ہنسائی کا باعث بننے لگا ہے، فیصل صالح حیات گروپ کی جانب سے ایشین فٹبال کنفیڈریشن کو لکھا جانے والا ایک خط منظر عام پر آ گیا، جس میں یہ کہا گیاکہ فیفا اور اے ایف سی ارکان نے دورئہ پاکستان کے دوران ان سے نامناسب رویہ اختیار کیا۔

4 اگست کو لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ احمد یار خان لودھی کی جانب سے قائم مقام سیکرٹری اے ایف سی داتوونڈسر جون کو تحریر کردہ خط میں کہا گیاکہ فٹبال فیڈریشن کے معاملات سے متعلق حقائق جاننے کیلیے اے ایف سی اور فیفا کے نمائندوں نے پاکستان کا دورہ کیا ، مگر دونوں نمائندوں کا ان کے ساتھ رویہ نامناسب تھا، اراکین نے ان کی بات سننے کے بجائے شدید مایوس کیا۔خط میں لکھاگیاکہ اس سے پہلے چھانگلہ گلی میں جب پی ایف ایف کے انتخابات ہوئے تو اس وقت اے ایف سی کے آبزرور سنجیون بالاسنگھم نے پہلے رپورٹ مرتب کی جو وہ جمع کرا چکے ہیں۔

انھوں نے موقف اختیار کیا کہ اس کے بعد دوبارہ حقائق جاننے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ احمد یار خان لودھی نے شکوہ کیاکہ حقائق جاننے والے کمیشن کے دونوں اراکین یکطرفہ رائے رکھتے ہیں،انھوں نے فٹبال ہاؤس کا بھی دورہ کیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دوسرے گروپ کے حق میں تھے۔

خط میں یہ بھی لکھاگیاکہ فیفا اور اے ایف سی کے نمائندوں پر انھیں کوئی اعتماد نہیں ہے۔ دوسری طرف ظاہر شاہ گروپ سے تعلق رکھنے والے آفیشلز نے فیفا اور اے ایف سی مشن کا خیر مقدم کیا اور انھیں تمام حقائق سے آگاہ کیا،انھیں یقین ہے کہ فٹبال کے دونوں اعلیٰ ادارے پاکستانی عدالتی فیصلوں کا احترام کریں گے۔

غیر جانبدار ذرائع کے مطابق غالب امکان ہے کہ اے ایف سی فیصل صالح حیات کو صدر تسلیم کیے جانے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گی،پاکستانی عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق پی ایف ایف معاملات کو چلانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔