ہاکی کی بہتری کے لئے نئی انتظامیہ کو 2 سال ملنے چاہئیں سابق اولمپیئن محمد اخلاق

15 سے 20 کروڑ درکار ہیں، فیڈریشن ڈھائی کروڑ کی مقروض ہے، سابق اولمپئن


Sports Reporter September 07, 2015
15 سے 20 کروڑ درکار ہیں، فیڈریشن ڈھائی کروڑ کی مقروض ہے، سابق اولمپئن۔ فوٹو: فائل

سابق اولمپئن محمد اخلاق کاکہنا ہے کہ ہاکی کی بہتری کیلیے پی ایچ ایف کے نئے صدربریگیڈیئر( ر) خالد سجادکھوکھر اورسیکریٹری شہباز سینئر کو کم ازکم دو سال کا وقت اور فوری طورپر15 سے20 کروڑ روپے کی گرانٹ ملنی چاہیے۔

میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہاکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن دوسے ڈھائی کروڑ روپے کی مقروض ہے اور اسے ہاکی کے معاملات چلانے کیلیے ہنگامی بنیادوں پرگرانٹ اوراسپانسرکی ضرورت ہے۔ ہاکی کے تمام سابق کھلاڑیوں کو ہاکی کے کھیل کی بہتری کیلیے ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہوجانا چاہیے اورغیرضروری تنقید سے گریزکرنا چاہیے، ہاکی کی موجودہ انتظامیہ اگربہترکام کرتی ہے تو ان کا ساتھ دینا چاہیے اوراگر صحیح کام نہیں کرتی تو پھر ان کا احتساب ہونا چاہئے لیکن کسی بھی ادارے کی انتظامیہ کے کیے گئے اقدامات کے نتائج سامنے آنے کیلیے کم از کم دو سال ضروری ہوتے ہیں، محمد اخلاق نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سلطان جوہر ہاکی ٹورنامنٹ کی تیاریوں کیلیے اسلام آباد میں لگائے گئے تربیتی کیمپ میں 62 کھلاڑیوں کو بلایا گیا ہے۔

شارٹ لسٹ کرنے کے بعد 30کھلاڑی کیمپ میں رہ جائیں گے لیکن پی ایچ ایف کو باقی 32 کھلاڑیوں کو گھر بھیجنے کی بجائے ان کا ایک علیحدہ کیمپ لگانا چاہیے تاکہ وہاں سے بھی قومی ہاکی ٹیم کو نیا ٹیلنٹ مل سکے، اخلاق احمد نے بتایا کہ شیخوپورہ ہاکی سٹیڈیم اور آسٹر و ٹرف کی تعمیر کیلیے 2008 میں بھاری فنڈز منظور کروائے تھے اور اس پر کام شروع کرادیا گیا تھا لیکن سابق وفاقی سیکریٹری اسپورٹس اشرف خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹیڈیم کی تعمیر اور آسٹروٹرف کی تنصیب کے کام کو ادھورا چھوڑ دیا گیا اور 8 سال گزرنے کے باوجود اس کو مکمل نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے اسٹیڈیم کی تعمیر پر خرچ کیے جانے والی بھاری رقم ضائع ہو رہی ہے۔