اسلامی نظریاتی کونسل کی حکومت سے مخلوط نظام تعلیم کو ختم کرنے کی سفارش

پرائمری سےاوپر کےتمام درجوں میں مخلوط تعلیم ختم کرنے کے لئےکم ازکم مدت کا تعین کیا جائے، چیرمین اسلامی نظریاتی کونسل


ویب ڈیسک October 20, 2015
خواتین کے چہرے اور ہاتھ پاؤں کا پردہ مستحب ہے لیکن جہاں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں چہرے کا پردہ واجب ہے، مولانا اختر شیرانی فوٹو: فائل

اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت سے مخلوط نظام تعلیم کو ختم کرنے کی سفارش کردی ہے۔

اسلام آباد میں مولانا اختر شیرانی کی سربراہی میں اسلامی نظریاتی کونسل کے دو روزہ اجلاس میں سودی نظام کے خاتمے، جائیداد میں خواجہ سراؤں کا حق، بحریہ یونیورسٹی کی طرف سے میڈیکل کالجز کے نصاب سے اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین نکالنے، نجی اسکولوں میں خواتین اساتذہ پر اسکارف اور دوپٹے کے استعمال پر پابندی سمیت مخلوط تعلیم کے نظام کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد مولانا اختر شیرانی نے کونسل کی سفارشات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مخلوط تعلیمی نظام کسی صورت درست نہیں، پرائمری سے اوپر کے تمام درجوں میں مخلوط تعلیم ختم کرنے کے لئے کم ازکم مدت کا تعین کیا جائے، سابق صدر ضیاء الحق کی جانب سے ملک میں دو خواتین یونیورسٹیوں کے اعلان کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

مولانا اختر شیرانی نے کہا کہ خواجہ سرابنیادی طور پر مرد ہوتے ہیں، جن خواجہ سراؤں میں مرد والی خصوصیات ہیں، انہیں جائیداد میں مرد کے برابر حصہ دیا جائے اور جن میں عورتوں والی خصوصیات ہیں انہیں جائیداد میں عورت کے برابر حصہ دیا جائے، مخنث مشکل کا وراثت میں حصہ آدھاحصہ خواتین اور آدھاحصہ مردکا ہوگا۔

خواتین کے پردے سے متعلق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ چہرے اور ہاتھ پاؤں کا پردہ مستحب ہے لیکن جہاں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں چہرے کا پردہ واجب ہے.

مقبول خبریں